غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔ ٹرمپ کے اس اعلان نے عالمی سطح پر نئی تشویش کو جنم دے دیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے اور تہران کو جنگ کے خاتمے پر مجبور کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ ایران کے خلاف آئندہ دنوں میں مزید سخت معاشی پابندیاں اور دیگر اقدامات سامنے آ سکتے ہیں، امریکا ایران کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

آبنائے ہرمز سے متعلق ٹرمپ کے بیان کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایران آبنائے کے شمالی ساحل پر جبکہ عمان جنوبی جانب واقع ہے۔

عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنگ سے قبل دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث اس آبی گزرگاہ میں تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث امریکا کی جانب سے ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھی اس سے قبل عندیہ دے چکے ہیں کہ ایران کے خلاف آئندہ ہفتے کے آغاز میں مزید سخت اقتصادی پابندیاں اور اقدامات نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو جنگ کے خاتمے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس آبی گزرگاہ کا کنٹرول اور آمدورفت پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا اہم نکتہ بن چکا ہے، ٹرمپ کا تازہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے بھی ٹرمپ کے بیان پر ردعمل سامنے آیا ہے اور ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا عندیہ دیا ہے، آبنائے ہرمز سے متعلق تہران کا مؤقف واضح ہے۔

یاد رہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں، توانائی کی فراہمی اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی کی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد اب عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے اس دعوے کو عملی شکل دینے کے لیے کیا اقدامات کرتا ہے اور ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک اس پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔