قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس طرح کے الزامات قطر کو خطے میں اپنی ثالثی کی کوششیں، سفارتی سرگرمیاں اور انسانی ہمدردی کے کام جاری رکھنے سے نہیں روک سکتے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد نے انتخابات کے دوران عرب جماعتوں کو مبینہ قطری فنڈنگ سے متعلق غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اس مہم کے دوران اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر قومی سلامتی اتمر بین گویر نے عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کا حکم
اسرائیل کی سینٹرل الیکشنز کمیٹی کے چیئرمین نے غیر ملکی فنڈنگ کے شبہے پر داخلی سکیورٹی ادارے ’شن بیت‘ کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ تاہم، پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انتخابی دھاندلی سے متعلق ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم کا مقصد اپوزیشن جماعتوں کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحاد قائم کرنا مزید مشکل بنانا ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے رہنما اتمر بین گویر نے کہا ہے کہ اگر قانونی جواز موجود ہو تو شن بیت کو ان عرب رہنماؤں کی گرفتاری کا حکم دینا چاہیے جن پر قطری فنڈنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
اسی طرح اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ نے ایکس پر جاری بیان میں مطالبہ کیا کہ عرب جماعتوں کے رہنماؤں سے اسی روز شن بیت کو پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’عرب جماعتوں کے رہنماؤں سے آج ہی شن بیت کو پوچھ گچھ کرنی چاہیے۔ ریاست اسرائیل کو دہشت گردی کے پیسے سے بنیاد پرست اسلام کے ہاتھوں فروخت نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘
لیکود پارٹی کا ’رام گیٹ اسکینڈل‘ کا دعویٰ
اسرائیل کی حکمران جماعت لیکود نے اس معاملے کو ’رام گیٹ اسکینڈل‘ کا نام دیتے ہوئے اسے سیاسی زلزلہ قرار دیا ہے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ ’یہ ایک سیاسی زلزلہ ہے۔ اسرائیل کے انتخابات چرا لیے گئے ہیں!‘
لیکود نے مزید کہا کہ ان الزامات کے بعد اپوزیشن کو کنیسٹ کے اسپیکر عامر اوہانا کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ’یونائیٹڈ عرب لسٹ‘، جسے ’رام‘ بھی کہا جاتا ہے، کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہیے۔
قطر کا مؤقف اور الزامات کی حیثیت
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت یا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے فنڈنگ سے متعلق الزامات قطر کی سفارتی اور ثالثی کی کوششوں کو متاثر نہیں کر سکتے۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کی جانب سے ان الزامات کی حمایت میں تاحال کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی انتخابی دھاندلی کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اس طرح قطر کی تردید اور اسرائیلی سیاست دانوں کے الزامات کے درمیان یہ معاملہ اسرائیل کی انتخابی سیاست اور عرب جماعتوں کے ساتھ ممکنہ سیاسی اتحاد کے حوالے سے تنازع کی صورت اختیار کر گیا ہے۔







