برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق یہ واقعہ عمان کے علاقے خصب سے تقریباً 25 ناٹیکل میل شمال مشرق میں پیش آیا، جہاں آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب سفر کرنے والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک چھوٹی کشتی ٹینکر کے بائیں جانب پہنچی اور جہاز کے بیرونی حصے پر پانی کی سطح سے اوپر دو دھماکا خیز آلات نصب کیے گئے۔
برطانوی میری ٹائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان آلات میں دھماکے کے بعد ٹینکر کے انجن روم میں آگ لگ گئی، جس کے باعث جہاز کے نظام پر بھی کچھ وقت کے لیے اثر پڑا۔ واقعے کے بعد جہاز کے عملے نے ہنگامی اقدامات کیے اور آگ بجھانے کی کارروائی شروع کردی۔
یو کے ایم ٹی او نے بعد ازاں بتایا کہ جہاز میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور تمام عملے کی خیریت کی تصدیق ہوچکی ہے، واقعے کے نتیجے میں سمندر میں تیل یا دیگر آلودگی پھیلنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ آگ بجھانے اور ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کے بعد آئل ٹینکر نے اپنی منزل کی جانب سفر دوبارہ شروع کردیا۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر تجارتی اور آئل بردار جہازوں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ایجنسی نے بحری جہازوں کے کپتانوں اور متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اردگرد مشتبہ کشتیوں یا غیر معمولی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے یا واقعے کی فوری اطلاع دیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے مختلف حصوں کو خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اہم اشیائے ضروریہ کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا سیکیورٹی خطرہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتا ہے۔
فراہم کردہ پس منظر کے مطابق رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ تہران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ اپریل میں جنگ بندی کے بعد جون میں امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔
تاہم سمندری سیکیورٹی کے انتظامات اور دیگر اختلافات کے باعث اس مفاہمت پر عمل درآمد تعطل کا شکار رہا۔ ایسے میں آئل ٹینکر پر تازہ دھماکوں کا واقعہ خطے میں بحری جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
تاحال واقعے کی ذمہ داری کسی فریق نے قبول نہیں کی اور نہ ہی حملے میں ملوث افراد یا گروہ کے بارے میں کوئی حتمی معلومات سامنے آئی ہیں۔ حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات اور تحقیقات کے نتائج کا انتظار ہے۔






