ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن نے نظرثانی شدہ نصاب پر عمل درآمد کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں، جب کہ خیبرپختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی تعلیمی اداروں کو بھی نئے تقاضوں پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نظرثانی شدہ نصاب میں نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے انگریزی، اردو، ریاضی، کمپیوٹر سائنس، کیمسٹری، بیالوجی اور فزکس کے مضامین شامل ہوں گے، جبکہ جنرل سائنس صرف نویں اور دسویں جماعت کے لیے ہوگی۔

خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ نئی نصابی کتب تیار کرے گا یا موجودہ نصاب پر نظرثانی کرے گا۔ اس کے علاوہ صوبے بھر کے تمام تعلیمی بورڈز بھی نئے نصاب کی بنیاد پر امتحانات منعقد کریں گے۔

نظرثانی شدہ تقاضوں کے تحت نصابی کتب کی تقسیم سے قبل ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن سے پیشگی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ نئے تقاضوں پر عمل درآمد میں ناکام ہونے والے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو خیبرپختونخوا نگران نصاب، نصابی کتب اور تعلیمی معیارات کی بحالی ایکٹ 2011 کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نئے نصاب کا اطلاق 2027 کے تعلیمی سال سے صوبے بھر میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر ہوگا۔