فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مسک نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنی سیاسی تنظیم ’امریکا پی اے سی‘ کے علاوہ ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کرنے والی بڑی سپر پی اے سی تنظیموں کو بھی بھاری رقوم عطیہ کیں۔ ان میں سینیٹ لیڈرشپ فنڈ کو 158 ملین ڈالر اور کانگریشنل لیڈرشپ فنڈ کو 20 ملین ڈالر کی امداد شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مالی معاونت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریپبلکن پارٹی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی بعض اہم نشستوں پر سخت مقابلے کا سامنا کر رہی ہے۔

امریکی انتخابی مالیاتی دستاویزات کے مطابق اگست کے اختتام تک ریپبلکن پارٹی کی کمیٹیوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی تنظیم ’ماگا اِنک‘ نے مجموعی طور پر ایک ارب 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ جمع کیے تھے، جب کہ ڈیموکریٹس کی جمع کردہ رقم تقریباً 60 کروڑ ڈالر تھی۔ تاہم بھاری مالی وسائل کے باوجود ریپبلکن امیدواروں کو سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔

فنانشل ٹائمز اور فوکل ڈیٹا کے ایک حالیہ سروے میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت 34 فیصد ریکارڈ کی گئی، جب کہ 45 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا خیال تھا کہ ٹرمپ نومبر کے انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کے دوران ان کی سیاسی پوزیشن اور قانون سازی کی صلاحیت پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔