ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ترکیہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، خطے میں جاری تنازعات اور سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر علاقائی ممالک کے درمیان تعاون پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
صدر اایردوان نے کہا کہ ترکیہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیے بغیر پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے خطے کے ممالک کو اختلافات کم کرنے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
ترک صدر نے لبنان، یمن اور ایران سمیت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف حصوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں تنازعات کا پھیلاؤ تشویش ناک ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پراکسی قوتوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں اور اس کے اثرات پورے خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہوں گے۔
رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ خطے کو تقسیم کرنے اور انتشار پھیلانے کی کوششوں سے صرف ان عناصر کو فائدہ پہنچے گا جو مزید تصادم اور خونریزی چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی ممالک کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
ترک صدر نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر حوثیوں کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اس مشکل وقت میں سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
ایردوان کے مطابق سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملے جیسے واقعات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ ایسے اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جو انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالیں اور خطے کے امن کو نقصان پہنچائیں۔
دوسری جانب صدر ایردوان نے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی، تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو مؤثر اور پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچے میں ڈھالنے کے لیے کام جاری ہے۔ اس سلسلے میں دفاعی تعاون کے اہداف، عملی طریقہ کار اور متعلقہ قانونی تقاضوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ترک صدر کے مطابق اس تعاون کی ایک اہم ترجیح اجتماعی دفاع اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے، جبکہ دوسری ترجیح ایسے مستقل ادارہ جاتی نظام کی تشکیل ہے جو دفاعی تعاون کو منظم اور مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکے، اس نوعیت کے تعاون کے لیے قانونی تقاضوں اور قومی ضوابط کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ایردوان نے بتایا کہ معاہدے کی داخلی منظوری کے مراحل آگے بڑھانے کے لیے اسے آئندہ دنوں میں ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری قانونی اور ادارہ جاتی امور پر پیشرفت جاری ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ترکیہ کے دفاعی مؤقف یا علاقائی پالیسی کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، ترکیہ کی ترجیحات واضح ہیں اور ملک اپنے قومی قوانین، خودمختاری اور طے شدہ اصولوں کے مطابق دفاعی اور سفارتی معاملات آگے بڑھاتا ہے۔
صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ترکیہ خطے کے مسائل کو نسلی یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر دیکھنے کے بجائے امن، استحکام اور باہمی تعاون کے تناظر میں حل کرنے کا حامی ہے، مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ ممالک کو کشیدگی کم کرنے، ایک دوسرے کے تحفظات سمجھنے اور سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
ترک صدر کے خطاب میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی اور پاکستان سمیت علاقائی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ترکیہ خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے مقابلے کے لیے سفارت کاری، علاقائی شراکت داری اور دفاعی تعاون کو اہمیت دے رہا ہے۔ تاہم مشترکہ دفاعی معاہدے کے عملی طریقہ کار اور اس کے نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔







