منگل کی رات ریاض میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب فضائی دفاعی نظام نے شہر کے اوپر موجود اہداف کو نشانہ بنایا۔ عرب اتحاد کے مطابق مختلف علاقوں میں چھ کروز میزائل، دو بیلسٹک میزائل اور پانچ ڈرونز مار گرائے گئے۔

سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے بتایا کہ ریاض میں دو کروز میزائلوں کو انٹرسیپٹ کرنے کے بعد ان کے ٹکڑے گرے، جس سے نمٹنے کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔

حکام کے مطابق ملبہ گرنے سے دو خواتین اور ایک بچے سمیت چار افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے میں 15 گھروں کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔ سول ڈیفنس نے متاثرہ گھروں کی تصاویر جاری کیں۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزارت توانائی کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ مشرقی صوبے کے شہر ظہران میں سعودی آرامکو کی ایک انتظامی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس سے معمولی نوعیت کی آگ لگی۔ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ضروری اقدامات کیے اور واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ریاض اور جنوبی علاقے میں چار کروز میزائلوں اور دو ڈرونز کو انٹرسیپٹ کرکے تباہ کیا گیا۔

ان کے مطابق ظہران اور حریض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں جبکہ الخرج میں ایک کروز میزائل کو بھی مار گرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک میزائل کو انٹرسیپٹ کرنے کے بعد اس کا ملبہ ظہران کے رہائشی علاقے میں گرا، جس سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکام کارروائی کر رہے ہیں۔

اس سے قبل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ منگل کو ریاض کے شمال میں حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے تین ڈرونز کو انٹرسیپٹ کرکے تباہ کیا گیا۔

عرب اتحاد کے مطابق سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرونز اور کروز میزائلوں کے خطرات پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ان حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب عرب اتحاد نے منگل کو یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک مقام پر کارروائی سے قبل شہریوں کو وہاں سے نکلنے کی ہدایت جاری کی۔

اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے یمن پیٹرولیم کمپنی کے مرکزی ایندھن اسٹیشن کو خالی کر دیں۔ اس مقام کی نشاندہی کے لیے ایک وضاحتی نقشہ بھی جاری کیا گیا۔