بھارتی میڈیا کے مطابق میٹا کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر جوئل کپلان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نئی دہلی پہنچا، جہاں اس نے وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکریٹری ایس کرشنن سے ملاقات کی۔ تقریباً 45 منٹ جاری رہنے والی ملاقات میں میٹا حکام نے وزیراعظم نریندر مودی کی ویڈیو حذف ہونے کے معاملے پر وضاحت پیش کی اور اسے تکنیکی و انتظامی غلطی قرار دیا۔

بعد ازاں میٹا وفد کی بھارتی وزیر برائے اطلاعاتی ٹیکنالوجی اشونی ویشنو سے بھی ملاقات متوقع تھی۔ تاہم صحافیوں کی جانب سے ویڈیو حذف کرنے کے ذمہ دار فرد یا نظام سے متعلق سوال پر میٹا نمائندوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

بھارتی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی کی وہ ویڈیو، جس میں وہ طلبہ اور نوجوانوں سے امتحانی تنازعات اور پرچہ لیک کے معاملے پر گفتگو کر رہے تھے، تقریباً پانچ سے چھ گھنٹے تک فیس بک سے غائب رہی۔

کمیٹی کے چیئرمین اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نشیکانت دوبے نے کہا کہ یہ واقعہ محض تکنیکی خرابی نہیں بلکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ میٹا ایک غیرجانبدار پلیٹ فارم کے بجائے ناشر کا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مارک زکربرگ مقررہ مدت میں معافی نہیں مانگتے تو حکومت سے سفارش کی جائے گی کہ میٹا کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت حاصل "سیف ہاربر" تحفظ واپس لیا جائے۔ یہ تحفظ کمپنیوں کو صارفین کے مواد کے لیے محدود قانونی ذمہ داری سے بچاتا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد، خواتین کے خلاف توہین آمیز مواد اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کی صورت میں پلیٹ فارمز کے خلاف اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

کمیٹی نے گوگل کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا اور حیدرآباد میں جعلی موبائل ایپس کے ذریعے سرمایہ کاری فراڈ کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی قانون کے دائرے میں جواب دہ ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بعد میں مارک زکربرگ نے بھارتی حکومت سے مودی کی ویڈیو حذف ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور انتظامی خامیوں پر معذرت کی، تاہم پارلیمانی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسے وزیراعظم کی ویڈیو کے معاملے پر باضابطہ اور غیرمشروط معافی درکار ہے۔

واضع رہے کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بھارت میں طلبہ کی ایک تحریک کے دوران وزیراعظم مودی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا۔ یہ احتجاج ابتدا میں امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے خلاف شروع ہوا، تاہم بعد میں یہ تعلیمی نظام، روزگار اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہوگیا۔

طلبہ نے نئی دہلی کے جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اطراف احتجاج کیا، جس میں پولیس کارروائی، گرفتاریاں اور جھڑپیں بھی سامنے آئیں۔ مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی۔

حکومت اور طلبہ نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے بعد امتحانی نظام میں اصلاحات اور پرچہ لیک کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔

اسی دوران مودی کی جانب سے جاری کیا گیا ویڈیو پیغام، جس میں انہوں نے امتحانی نظام میں بہتری اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا، فیس بک اور انسٹاگرام سے عارضی طور پر غائب ہوگیا، جس کے بعد یہ معاملہ حکومت اور میٹا کے درمیان تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع اب صرف ایک ویڈیو تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داری، آزادیٔ اظہار، ریاستی نگرانی اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اختیارات سے متعلق ایک بڑی بحث کو جنم دے دیا ہے۔