عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ماسکو میں فوجی و صنعتی کمیشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے بعض یورپی رہنماؤں پر روس کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک یوکرین کے تنازع اور روس کی مبینہ دھمکی کو اپنی پالیسیوں اور جنگی اخراجات کے جواز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

روسی صدر نے کہا کہ وہ ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ روس کے یورپ یا یورپی ممالک کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں اور اس دعوے کی کوئی بنیاد نہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس اپنے یورپی ہمسایوں کے ساتھ تعاون اور تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔

پیوٹن نے یورپی ممالک کی جانب سے بالٹک سمندر میں ہونے والی حالیہ فوجی مشقوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان مشقوں میں شہری بحری جہازوں پر قبضے کی مشق بھی شامل تھی۔

روسی صدر نے کہا کہ یورپی ممالک مسلسل بین الاقوامی قانون کے دفاع اور اس کے اصولوں کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب شہری بحری جہازوں پر قبضے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ضرورت پڑنے پر روس اس کا جواب دے گا اور کہا کہ آئیے امن سے رہیں، ورنہ ہمیں بھی جواب دینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

اپنے خطاب میں پیوٹن نے روس کے دفاعی پروگرام کی ترجیحات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے روس کی خودمختاری کے تحفظ اور دنیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دفاعی صلاحیتوں کو اہم قرار دیا۔

روسی صدر کے مطابق ماسکو دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی جاری رکھے گا۔

پیوٹن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین جنگ کے باعث روس اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ یورپی ممالک روس پر مختلف نوعیت کی کارروائیوں اور سکیورٹی خطرات کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جب کہ ماسکو ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔