محسن رضائی کے مطابق ایران کی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ساتھ مشاورت بھی جاری ہے، جب کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پر قائم ہے۔

ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج خطے میں موجود امریکی اڈوں اور امریکی مفادات کو زیادہ شدت سے نشانہ بنائیں گی۔

محسن رضائی نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا کہ تہران نے اب تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم مستقبل کا انحصار امریکا کے رویے پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی جوہری ہتھیاروں کے خلاف سابق ایرانی رہنما کے فتوے پر قائم ہے اور اس کے جوہری نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ محسن رضائی نے تاہم کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔

ایرانی عہدیدار نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کے خاتمے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یمن کے حوثی بھی سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور سفارتی رابطوں کے تناظر میں پاکستان اور قطر پہلے بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی اور مذاکرات کی کوششوں میں شامل رہے ہیں۔ حالیہ سفارتی کوششوں کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔