رپورٹ کے مطابق منگل کو ہونے والی بحث کے دوران امریکی سفیر مائیک والٹز نے کیوبا کی حکومت اور اس کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔
والٹز نے الزام لگایا کہ کیوبا کے حکمران نجی جزائر اور مہنگی رولیکس گھڑیوں جیسی آسائشوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ ملک کو درپیش مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا کی جانب سے کیوبا کو ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔
امریکی سفیر کی تقریر کے دوران کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پریلا اور وفد کے دیگر ارکان نے بلند آواز میں احتجاج کیا۔ اس پر والٹز نے کیوبا کے وفد پر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو خاموش کرانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
والٹز نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ ہے، کیوبا کی کمیونسٹ حکومت نہیں، اور کیوبا کا وفد انہیں یا ان کے ساتھیوں کو خاموش نہیں کرا سکتا۔ اس پر کیوبا کے وزیر خارجہ نے انہیں جھوٹا قرار دیا۔ کیوبا کے وفد کے آگے آنے کے بعد والٹز نے کہا 'یہ امریکا ہے، پیچھے چلے جاؤ'۔
تلخ کلامی کے دوران روڈریگز پریلا ہال کے اگلے حصے کی جانب بڑھے، تاہم اقوام متحدہ کی براہِ راست نشریات میں ان کی بات واضح طور پر سنائی نہیں دی۔ اجلاس کے صدر خلیل الرحمان نے کارروائی معطل کر دی، جس کے بعد کیوبا کے وزیر خارجہ کو نکتۂ اعتراض اٹھانے کا موقع دیا گیا۔
اپنی نشست پر واپس آنے کے بعد پریلا نے امریکی سفیر کے بیانات مسترد کرتے ہوئے ان پر کھلے عام جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔
واقعے کے بعد کیوبا کے وزیر خارجہ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر بھی والٹز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ امریکی سفیر اپنے تکبر میں بھول جاتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ میں ہیں، نہ کہ امریکی قومی سلامتی کونسل، گرین بیریٹس کے کسی یونٹ یا سگنل گروپ میں۔
مائیک والٹز سابق گرین بیریٹ ہیں اور گزشتہ برس امریکی قومی سلامتی کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس دوران انہیں اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے غلطی سے ایک صحافی کو سگنل میسجنگ ایپ کے ایسے گروپ میں شامل کر دیا تھا، جس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی حملوں پر گفتگو کر رہے تھے۔
اقوام متحدہ میں پیش آنے والا یہ واقعہ امریکا اور کیوبا کے درمیان دیرینہ کشیدگی اور تجارتی پابندیوں کے معاملے پر دونوں ممالک کے اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔







