نیتن یاہو نے دائیں بازو کی مضبوط حکومت بنانے پر زور دیا، جبکہ گادی آئزن کوٹ کا کہنا ہے کہ عوام نے طویل عرصے سے وزیراعظم رہنے والے نیتن یاہو کو مسترد کر دیا ہے۔
خبر رساں اداروں اے پی اور اے ایف پی کے مطابق ابتدائی انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت کے مخالفین کو نئی پارلیمنٹ میں اکثریت مل سکتی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ مختلف نظریات رکھنے والی اپوزیشن جماعتیں، جن میں عرب اسرائیلی جماعتیں بھی شامل ہیں، مل کر حکومت بنانے پر اتفاق کر سکیں گی یا نہیں۔ ایسی صورت میں حکومت سازی کے لیے کئی ہفتوں تک مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔
بدھ کی صبح اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو پُراعتماد دکھائی دیے۔ انہوں نے گزشتہ تین برس کے دوران فوجی کامیابیوں کا ذکر کیا، تاہم براہ راست انتخابی کامیابی کا دعویٰ نہیں کیا۔ انہوں نے دائیں بازو کی مضبوط حکومت بنانے اور یہودی و صہیونی اکثریت کو متحد کرنے پر زور دیا۔
اے ایف پی کے مطابق منگل کو ہونے والے انتخابات میں تقریباً 78 فیصد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔ ووٹرز نے نیتن یاہو کی متنازع حکومت کی کارکردگی پر اپنی رائے دی۔ نیتن یاہو اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیراعظم رہنے والے رہنما ہیں اور ان کے دور میں اسرائیلی سیاست مزید دائیں بازو کی جانب بڑھی۔ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد اسرائیل نے متعدد محاذوں پر فوجی کارروائیاں بھی کیں۔
ابتدائی جائزوں کے مطابق سابق فوجی سربراہ اور سیاست میں نسبتاً نئے رہنما گادی آئزن کوٹ کا اپوزیشن اتحاد اور نیتن یاہو کا سخت گیر دائیں بازو کا اتحاد قریباً برابر ہیں۔ کسی بھی اتحاد کے واضح اکثریت حاصل کرنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

انتخابات میں عرب اسرائیلی جماعتوں کو بھی فائدہ ہوا، جبکہ عرب ووٹرز نے بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ نیتن یاہو ماضی میں خبردار کرتے رہے ہیں کہ عرب اقلیت کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت اسرائیل کی یہودی قوم پرستانہ شناخت کو متاثر کر سکتی ہے۔
یروشلم میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے 77 سالہ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے پاس دائیں بازو کی مضبوط حکومت بنانے کا موقع ہے۔ انہوں نے ان رہنماؤں کا بھی ذکر کیا جنہیں اسرائیل نے ان کے حکم پر ہلاک کیا تھا اور ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا عندیہ دیا۔
نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان جیسے اتحادی کی موجودگی میں اسرائیل کے پاس ایران سے لاحق خطرات کو مستقل طور پر ختم کرنے کا منفرد موقع ہے۔
دوسری جانب گادی آئزن کوٹ نے تل ابیب میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں کی وفاداری ریاست کے ساتھ ہونی چاہیے، کسی وزیراعظم کے ساتھ نہیں۔
آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو ایسا وزیراعظم قرار دیا جس کے پاس نہ عوامی مینڈیٹ ہے اور نہ ہی عوام کا اعتماد۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور نیتن یاہو کو عوام کے عدم اعتماد کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنا چاہیے۔
اگرچہ آئزن کوٹ کے سکیورٹی سے متعلق کئی نظریات نیتن یاہو سے ملتے ہیں اور وہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی حمایت کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے اسرائیل میں تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے اور مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ان آبادکاروں پر فلسطینیوں کے خلاف حملوں کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
آئزن کوٹ نے دوبارہ انتخابات کرانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم ابتدائی انتخابی جائزوں کے بعد اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کا انحصار مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان ممکنہ اتحاد اور مذاکرات پر ہوگا۔







