کویتی میڈیا کے مطابق عدالت کے ریاستی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق خصوصی شعبے نے پیر کو فیصلہ سنایا۔ سزائے موت پانے والوں میں شیعہ مذہبی رہنما اور نیشنل اسلامک الائنس کے سیکریٹری جنرل حسین عبداللہ المطوع، حسن عبد الہادی حاجیہ اور ایرانی شہری عبدالرضا حیدر دہقانی شامل ہیں۔

ملزمان پر کویت کے نائب اول وزیراعظم اور وزیر داخلہ شیخ فہد الیوسف الصباح سمیت اعلیٰ حکام کو قتل کرنے کی سازش، ایران کے لیے جاسوسی، حزب اللہ سے وابستگی اور کویت کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات تھے۔

استغاثہ کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد استعمال کرکے اعلیٰ حکام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ایک ملزم پر الزام تھا کہ اس نے سازش پر عمل درآمد کے لیے دھماکا خیز مواد کویت میں لانے کی کوشش کی۔

عدالت کے مطابق ملزمان کے اقدامات کا مقصد ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانا، معاشرتی بے چینی پھیلانا اور شہریوں کا ریاستی اداروں کی جانب سے جان و مال کے تحفظ پر اعتماد کمزور کرنا تھا۔

کویتی اخبار القبس کے مطابق مقدمے میں مجموعی طور پر 11 افراد نامزد تھے، جن میں نو کویتی شہری، ایک ایرانی شہری اور ایک دیگر غیر ملکی شامل تھا۔ بعض ملزمان ملک سے باہر بھی تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدالتی ذرائع نے بتایا کہ سزائے موت پانے والے افراد میں سے ایک کو 2016 میں بھی دہشت گردی کے مقدمے میں سزا ہوئی تھی، تاہم بعد میں امیرِ کویت کی جانب سے معافی ملنے کے بعد اسے اپریل میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔

کویتی اخبار الرائے کے مطابق فردِ جرم میں الزام لگایا گیا کہ ملزمان نے ایران اور اس کے مفادات کے لیے سرگرم گروہوں، بشمول حزب اللہ، سے رابطے کیے اور کویت کے خلاف مبینہ کارروائیوں کے لیے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی۔

حکام نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور مقدمے کے تمام شواہد کی تفصیلات دستیاب رپورٹس میں واضح نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ کویت نے رواں سال مارچ میں بھی حزب اللہ سے مبینہ روابط اور حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں متعدد افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔

عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائیں حتمی نہیں ہیں اور فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔