محکمہ ماحولیات پنجاب کے مطابق 28 ستمبر سے 27 اکتوبر تک انسدادِ اسموگ مہم کے تحت صوبے بھر میں اینٹوں کے 11 ہزار 580 بھٹوں کا معائنہ کیا گیا۔ کارروائیوں کا مقصد ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بھٹوں کی نشاندہی کرنا، دھوئیں کے اخراج کو محدود کرنا اور فضائی آلودگی میں کمی لانا ہے۔
محکمہ ماحولیات نے واضح کیا ہے کہ اسموگ کا سبب بننے والے غیر معیاری بھٹوں اور ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ اس سلسلے میں بھٹوں کی انسپکشن، جرمانوں، مقدمات کے اندراج اور خلاف ورزی کرنے والے یونٹس کو بند کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صنعتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں۔ ایک ماہ کے دوران 6 ہزار 650 صنعتی یونٹس کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں خلاف ورزیوں پر 22 یونٹس مسمار اور 191 سیل کیے گئے۔ اس کے علاوہ صنعتی اداروں کو 333 اسموگ نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ 15 مقدمات درج کیے گئے۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق صنعتی آلودگی سے متعلق خلاف ورزیوں پر 2 کروڑ 80 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ حکام صنعتی یونٹس میں دھوئیں اور مضرِ صحت اخراج کی روک تھام کے لیے معائنے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ماحولیاتی معیار پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
پلاسٹک جلانے کے خلاف کارروائیوں کے دوران 45 ہزار 100 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا گیا۔ اس مہم کے تحت 6 ہزار 64 مقامات کا معائنہ کیا گیا، جبکہ خلاف ورزیوں پر 152 مقامات سیل کیے گئے۔
حکام کے مطابق پلاسٹک اور دیگر ممنوعہ مواد کو جلانے سے فضا میں نقصان دہ دھواں اور آلودہ ذرات شامل ہوتے ہیں، جو شہریوں کی صحت اور ماحول کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے ایسے مقامات کی نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کو انسدادِ اسموگ مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
محکمہ ماحولیات صنعتی یونٹس میں آلودگی کے اخراج کو کم کرنے کے لیے سکشن ہڈز کی تنصیب اور ان کے استعمال کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں 4 ہزار 204 صنعتی یونٹس کا معائنہ کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی تقاضے پورے نہ کرنے والے 333 مقامات سیل کیے گئے۔
سکشن ہڈز صنعتی عمل کے دوران پیدا ہونے والے دھوئیں اور آلودہ ذرات کو کھینچنے اور ان کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، صنعتی اداروں کو ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد کا پابند بنانے کے لیے انسپکشن کا سلسلہ جاری ہے۔
تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گردوغبار کی آلودگی کم کرنے کے لیے پنجاب کی 397 یونین کونسلز میں کارروائیاں کی گئیں، جبکہ 49 مقامات پر مسٹ اسپرنکلرز نصب کیے گئے۔ ان اقدامات کا مقصد تعمیراتی مقامات سے اٹھنے والی گردوغبار کو کم کرنا اور فضا میں آلودہ ذرات کے پھیلاؤ کو محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے 67 کوئیک رسپانس یونٹس فعال ہیں۔ محکمہ ماحولیات کے مطابق سیٹلائٹ اور فیلڈ مانیٹرنگ کے ذریعے ایسے واقعات کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جس کے بعد متعلقہ علاقوں میں کارروائی کی جاتی ہے۔ لاہور میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے اینٹی اسموگ گنز کا استعمال بھی جاری ہے۔
ڈی جی ماحولیات عبداللہ نیئر شیخ نے کہا ہے کہ پنجاب میں آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ڈرونز، نائٹ اسکواڈز اور فیلڈ ٹیمیں مسلسل نگرانی اور کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
عبداللہ نیئر شیخ کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانوں، مقدمات کے اندراج اور یونٹس کو سیل کرنے سمیت قانونی اقدامات جاری رہیں گے۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق انسدادِ اسموگ مہم میں اینٹوں کے بھٹوں، صنعتی یونٹس، پلاسٹک جلانے، تعمیراتی گردوغبار اور فصلوں کی باقیات جلانے جیسے مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والی آلودگی کو ہدف بنایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں اور نگرانی کا مقصد فضائی آلودگی پر قابو پانا اور شہریوں کے لیے ماحول کو بہتر بنانا ہے۔







