اطلاعات کے مطابق پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی سیکیورٹی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے اراکین اسمبلی کو سیکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جس کے مطابق آئی جی نے بتایا کہ پولیس کو اس وقت سنگین مالی و انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔

آئی جی کے مطابق موجودہ حالات میں فوج کی مدد کے بغیر دہشت گردی پر مکمل قابو پانا ممکن نہیں۔

بریفنگ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ اس طرح دہشت گردی اور جرائم کے خلاف کارروائیوں کے لیے فعال اہلکاروں کی تعداد صرف 80 ہزار رہ جاتی ہے۔ پولیس کے پاس گاڑیوں، دفاتر اور دیگر ضروری سہولیات کی شدید کمی ہے۔

آئی جی کے مطابق کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں اہلکاروں کی تعداد بھی ناکافی ہے، جبکہ تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کے لیے مناسب فنڈز میسر نہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پولیس کو اتنا کم بجٹ فراہم کیا جاتا ہے کہ جس رقم میں بعض اوقات ایک کلومیٹر سڑک بھی مکمل تعمیر نہیں کی جا سکتی۔

اجلاس کے شرکاء نے اتفاق کیا کہ پولیس کو مزید وسائل اور جدید آلات کی فراہمی کے بغیر صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ممکن نہیں۔

ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی نے صوبائی حکومت سے پولیس کے مسائل کے فوری حل کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔