تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو معاون خصوصی برائے انسانی حقوق راجویر سنگھ سوڈھو نے سندھ کی پہلی جینڈر پیریٹی رپورٹ 2024ء پیش کی، جس میں صوبے میں مختلف شعبوں میں صنفی عدم مساوات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دیہی سندھ میں خواتین کی شرح خواندگی صرف 27.52 فیصد ہے، جب کہ 5 سے 16 سال کی عمر کی لاکھوں بچیاں تعلیم سے محروم ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد صنفی مساوات کے لیے ہدفی اصلاحات کرنے کا فیصلہ کیا اور تمام صوبائی محکموں کو صنفی فرق کم کرنے کی ہدایت کردی۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صنفی مساوات پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ خواتین اور بچیوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ صنفی مساوات پائیدار ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے۔
انہوں نے تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے شعبوں میں خواتین کی صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جینڈر پیریٹی رپورٹ پالیسی سازی اور وسائل کی تقسیم میں رہنمائی کرے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں تعلیم کے شعبے میں صنفی فرق اب بھی بڑا چیلنج ہے، جس کے خاتمے کے لیے لڑکیوں کے اسکولوں، داخلوں اور تعلیم کے تسلسل کے حوالے سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں زچگی کے دوران اموات کی شرح میں بھی کمی کی نشاندہی کی گئی۔ معاون خصوصی راجویر سنگھ سوڈھو نے بتایا کہ سندھ میں زچگی کے دوران اموات کی شرح 314 سے کم ہوکر فی ایک لاکھ پیدائشوں پر 224 ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات فی ایک ہزار پیدائشوں پر 24 ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت کی جانب سے صحت کے لیے مختص بجٹ میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ 2023-24ء میں صوبے کا صحت کا بجٹ 214.5 ارب روپے تھا، جو 2024-25ء میں بڑھا کر 267.54 ارب روپے کردیا گیا، جبکہ 2025-26ء میں صحت کا بجٹ 318.22 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
جینڈر پیریٹی رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس میں خواتین کی نمائندگی صرف 4.34 فیصد ہے، جبکہ پراسیکیوٹرز میں خواتین کا حصہ 18.3 فیصد اور ججز میں خواتین کی نمائندگی 13.7 فیصد ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2024ء کے دوران سندھ میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3 ہزار 85 کیسز رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق صنفی تشدد کے واقعات خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ خواتین کے لیے انصاف تک رسائی اور حفاظتی نظام مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ میں خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن ایک کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد 2018ء کے 23 سے بڑھ کر 2024ء میں 53 ہوگئی، جس سے صوبے میں سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت میں اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے خواتین کی فیصلہ سازی اور عوامی نمائندگی میں مزید اضافہ کرنے پر زور دیا۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سندھ میں خواتین کی ملازمتوں کی تعداد 24 لاکھ 80 ہزار سے بڑھ کر 33 لاکھ 20 ہزار ہوگئی ہے، جبکہ خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح 43.8 فیصد سے بڑھ کر 46.2 فیصد ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق خواتین کی معاشی شرکت میں بہتری کے باوجود مختلف رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ خواتین کے لیے باعزت روزگار تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ ڈیجیٹل سہولیات تک محدود رسائی بھی خواتین کی معاشی شرکت میں رکاوٹ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تمام صوبائی محکموں کو جینڈر پیریٹی رپورٹ کی روشنی میں پالیسیاں بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے صوبائی محکموں کو صنفی بنیاد پر الگ اعداد و شمار کا نظام مضبوط بنانے، سرکاری اداروں میں نگرانی کے نظام کو بہتر کرنے اور اداروں کے درمیان رابطہ و تعاون بڑھانے کی ہدایت کی۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ خواتین کی ضروریات کو ترقیاتی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی میں شامل کیا جائے، جبکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ضلعی سطح پر خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ نے تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی نمائندگی سمیت مختلف شعبوں میں صنفی فرق کم کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی۔ رپورٹ کے مطابق 2023ء میں سندھ کی آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 2.57 فیصد رہی۔
سندھ کی آبادی میں ہر 100 خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 108.76 ہے۔







