الخدمت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ”بنو قابل انٹری ٹیسٹ“ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ستائسویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چھبیسویں ترمیم کے موقع پر ”مسٹر اور مولانا“ ایک ہوگئے تھے اور اس کا نتیجہ عدلیہ کی غلامی کی صورت میں نکلا۔
انہوں نے کہا کہ اب ستائیسویں ترمیم پر بھی آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں اور نتیجہ پھر عوام کے استحصال کی صورت میں ہی نکلے گا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ بارہ سال سے ایک ہی جماعت حکمرانی کر رہی ہے، لیکن صوبے میں اب بھی پچاس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، صوبائی حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومتوں کا بارہ سو ارب روپے کا تعلیمی بجٹ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ نئی نسل کو چاہیے کہ حکمرانوں کے خلاف متحد ہو جائے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرے۔ حکمران تعلیم کو کاروبار نہ بنائیں بلکہ نئی نسل کو مفت تعلیم فراہم کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی نہ صرف عوام کے حقوق کے لیے حکمرانوں سے مطالبہ کرتی رہے گی بلکہ اپنے حصے کی شمع بھی روشن کرتی رہے گی۔
مزید پڑھیں: موجودہ بیوروکریسی اور حاکم طبقے کی ذہنی ساخت عوام کو غلام سمجھتی ہے، حافظ نعیم الرحمان
واضح رہے کہ تقریب میں بیس ہزار سے زائد نوجوانوں، طلبہ و طالبات اور خواتین نے بچوں کے ہمراہ شرکت کی اور انٹری ٹیسٹ میں حصہ لیا، کرسیوں کی تعداد کم پڑنے کی وجہ سے بچوں کو نیچے گراس پر بیٹھ کر ٹیسٹ دینا پڑا۔
یاد رہے کہ ”بنو قابل“ پروگرام کے تحت اب تک ملک بھر سے بارہ لاکھ طلبہ انرول ہو چکے ہیں، جب کہ بھرپور عوامی پذیرائی کے بعد حافظ نعیم الرحمان نے ہدف دس لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ مقرر کر دیا ہے۔







