ذرائع کے مطابق پاکستان نے مذاکرات میں اپنی پچھلی پانچ سالہ کاوشیں پیش کیں، جن میں معاہدہ ساز دوروں، اعلیٰ سطحی وفود کے دورے، بارڈر فلیگ میٹنگز، جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹٰیوں اور متعدد دمارش شامل ہیں، مگر افغانستان کی طرف سے تسلیم شدہ مثب ت ردعمل نہ ملنے پر تشویش عیاں کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اب افغانستان انڈیا کی پراکسی سرگرمیوں کا محور بنتا جا رہا ہے اور خطے میں جو دہشتگردی کا سلسلہ جاری ہے وہ انڈیا، افغانستان اور فتنہ الخوارج کے اشتراک کا نتیجہ ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے استنبول میں سختی سے مطالبہ کیا کہ یا تو افغان رجیم خود فتنہ الخوارج کے خلاف موثر کارروائی کرے یا پھر ان دہشتگرد عناصر کی قیادت کو پاکستان کے حوالے کیا جائے، کیونکہ یہی عناصر پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

پاکستانی وفد نے یہ واضح کیا کہ جب تک سرحد پار سے دہشتگردانہ کارروائیاں جاری رہیں گی، جنگ بندی اور اعتماد سازی کے تمام دعوے محض کاغذی ہوں گے اور وہ اس صورتِ حال کو قبول نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: افغان وزیرِ خارجہ کی مجھے چھ کالز آئیں اور میں نے یہی کہا کہ آپ کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، اسحاق ڈار

ملاقاتوں کے دوران عالمی ثالثوں نے پاکستان کے نکات کی بنیاد پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا اور ان تجاویز کو افغان طالبان کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ مگر پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان کا رویہ منافقانہ اور غیر سنجیدہ رہا تو اسلام آباد کو سخت سفارتی اور عملی راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں تاکہ سرحدی سکیورٹی اور قومی مفادات کی حفاظت کی جا سکے۔