رائٹرز کے مطابق معاملے سے واقف تین ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی عرب نے حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور بحیرہ احمر کے اطراف بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر چین سے مدد طلب کی تھی، جس کے بعد بیجنگ نے تہران سے نجی طور پر حوثیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کرنے کی درخواست کی۔
ذرائع کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب آبنائے کے اطراف تیزی سے پیش قدمی کی، جس سے سعودی عرب کی تیل برآمدات اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین نے اگرچہ عوامی سطح پر خطے میں تحمل، مذاکرات اور محفوظ جہاز رانی کی بحالی پر زور دیا ہے، تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کو بھیجے گئے نجی پیغام میں حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی درخواست زیادہ واضح انداز میں کی گئی۔
چین کی جانب سے ایران سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرنے والے اہم تجارتی و توانائی کے راستوں کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ چین دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور مشرق وسطیٰ سے توانائی کی درآمدات پر اس کا نمایاں انحصار ہے۔
تین ایرانی ذرائع کے مطابق چینی حکام نے ایران کو کوئی واضح دھمکی نہیں دی اور نہ ہی یہ اشارہ دیا کہ حوثیوں کے معاملے پر ایران کے عدم تعاون کی صورت میں بیجنگ تہران پر معاشی دباؤ ڈالے گا۔ ذرائع نے یہ بھی نہیں بتایا کہ چینی پیغام ایران تک کس ذریعے سے پہنچایا گیا یا آیا یہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ چین کے دوران دیا گیا تھا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران کی جانب سے جواب میں کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے خاتمے پر ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کہا کہ چین علاقائی کشیدگی کو مزید یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلتا نہیں دیکھنا چاہتا۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔
بیجنگ نے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی روزمرہ زندگی کے لیے اہم تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ چین نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والے اقدامات ختم کرنے اور تنازعات کو بات چیت و مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر بھی زور دیا۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ اور سعودی حکومت کے میڈیا آفس نے خبر پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
رائٹرز کے مطابق چین ایک دہائی سے زائد عرصے سے ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا اہم خریدار ہے۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ایران کی سمندری راستے سے ہونے والی تیل برآمدات میں چین کی خریداری کا حصہ 80 فیصد سے زیادہ تھا، جو اوسطاً تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ بنتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر اور باب المندب میں کشیدگی بڑھنے سے نہ صرف سعودی تیل کی ترسیل بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ باب المندب عالمی بحری تجارت کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کے ذریعے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے جوڑا جاتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق صورتحال اس لیے بھی اہم ہوگئی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بھی جہاز رانی کو شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اگر بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز دونوں اہم راستے ایک ہی وقت میں متاثر ہوتے ہیں تو مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
ایرانی ذرائع اور مغربی حکام کے مطابق حوثیوں کو ایران کی جانب سے اسلحہ، تربیت اور مالی معاونت حاصل رہی ہے، جبکہ یہ گروپ تہران کے علاقائی اتحادیوں کے نیٹ ورک کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم حوثیوں اور ایران کے تعلقات کی نوعیت اور تہران کے اثر و رسوخ کی حدود پر مختلف فریقوں کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
چین اس سے قبل بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرچکا ہے۔ 2023 میں بیجنگ کی ثالثی سے ایران اور سعودی عرب نے کئی برس کی کشیدگی کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
یاد رہے کہ موجودہ صورتحال میں چین کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے بحیرہ احمر اور خلیج کے اہم تجارتی و توانائی راستوں میں کشیدگی کو کس حد تک کم کرا سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ بھی واضح نہیں کہ تہران حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کے حوالے سے بیجنگ کی درخواست پر عملی طور پر کیا اقدامات کرے گا۔







