سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ آذربائیجان سے واپسی پر مجھے بتایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے چند سینیٹرز نے وزیراعظم کے استثنیٰ سے متعلق ترمیمی شق سینیٹ میں پیش کی ہے، جو اصل مسودے میں شامل نہیں تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ میں ان معزز سینیٹرز کے خلوص کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تاہم میں نے انہیں یہ ترمیم فوری طور پر واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ منتخب وزیراعظم یقیناً قانون اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز صدرِ مملکت کے خلاف تاحیات کسی بھی قسم کا مقدمہ نہ بنائے جانے کی ترمیم بھی نئے آئینی مسودے میں شامل کی گئی تھی۔

مجوزہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 248 (بی) میں کی جا رہی ہے، جس کے تحت صدر مملکت کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں بن سکے گا اور نہ ہی انہیں گرفتار یا سزا دی جا سکے گی۔