دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ترکی اور قطر کی ثالثی کی مخلصانہ کوششوں کا شکریہ ادا کرتا ہے، مگر گذشتہ چار سالوں میں افغان سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں تیزی آئی اور اس کے باوجود پاکستان نے کثیر جانی و مالی نقصانات کے باوجود ضبطِ نفس کا مظاہرہ کیا۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی توقع تھی کہ طالبان حکومت وقت کے ساتھ ان حملوں کو روکنے اور ٹی ٹی پی اور بی ایل اے عناصر کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے گی، مگر ان کا ردعمل خالی وعدوں تک محدود رہا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ مثبت اقتصادی اور انسانی تعاون کے ذریعے استحکام لانے کی کوشش کی، تجارتی رعایتیں، طبی و تعلیمی ویزے اور بین الاقوامی سطح پر طالبان کی شمولیت کی حمایت، مگر بدلے میں عملی نتائج سامنے نہیں آئے۔ افغان حکومت نے بار بار بنیادِ مسئلہ یعنی سرحد پار دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی اور بحث کو الجھانے کی کوشش کی۔
ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے اکتوبر 2025 میں اپنی دفاعی اور سیکیورٹی قوت دکھا کر واضح کر دیا کہ وہ سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو ریاست اور عوام کا دشمن قرار دیا گیا ہے اور جو بھی انہیں پناہ، مدد یا مالی اعانت فراہم کرے وہ پاکستان کا خیرخواہ نہیں مانا جائے گا۔
🔊PR No.3️⃣3️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) November 9, 2025
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️https://t.co/kmP8stYpTQ pic.twitter.com/bEJY4kmmRx
جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ معاملہ انسانی پناہ یا مہاجرین کا نہیں بلکہ دہشت گردی کا ہے، وہ عناصر جو کبھی آپریشن ضربِ عضب کے بعد افغان سرزمین پر منتقل ہوئے، آج وہی فوجی و تربیتی اڈے بنا کر پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔
بیان کے مطابق پاکستان نے بارہا کہا کہ اگر افغان حکومت کے پاس ان عناصر کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں تو کم از کم انہیں حوالہ کر کے سرحدی چوکیوں (تورخم یا چمن) پر پاکستان کے حوالے کیا جائے، نہ کہ انہیں ہتھیار اور سازوسامان کے ساتھ سرحد پر پھینکا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہےکہ پاکستان امن اور مذاکرات کا خواہاں ہے اور طاقت کو آخری حربے کے طور پر رکھتا ہے، تاہم امن کی کسی بھی کوشش سے پہلے طالبان حکومت کی ذمہ داری واضح ہونا ضروری ہے۔
بیانات میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان کے اندر ایسے عناصر ہیں جو پاکستان کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے، مگر ایک طاقت ور لابّی ہے جو بیرونی مالی مدد سے کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے اور بعض حلقے پاکستان کے خلاف جذبات ابھار رہے ہیں۔
بیان میں پاکستان کے موقف کو آئینی و پارلیمانی مینڈیٹ کے تحت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مسلح افواج اور قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قربانیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا، پاکستان اپنی سرحدی سالمیت کا دفاع کرے گا۔ اختلافات کا حل ڈائیلاگ کے ذریعے ہی بہتر ہے لیکن اصل شرط یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔
جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امن کی کوششوں میں سنجیدہ ہے، مگر امن کی ضمانت تبھی ممکن ہے جب الفاظ کے ساتھ ساتھ زمینی، قابلِ تصدیق اور ٹھوس اقدامات ہوں۔







