ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے چیمبر میں ہونے والے اہم اجلاس میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر بل کے نکات طے کر لیے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، پیپلز پارٹی کی شیری رحمان، نوید قمر، فاروق ایچ نائیک اور مرتضیٰ وہاب شریک ہوئے۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کو اتفاق رائے سے حتمی شکل دے دی گئی ہے، چند تبدیلیاں تھیں جو مکمل کرلی گئی ہیں اور اب مسودہ پرنٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان دو نکات پر اختلاف تھا، جو مذاکرات کے دوران طے پا گیا۔ پیپلز پارٹی کو وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے تقرر کے طریقہ کار پر تحفظات تھے، جب کہ (ن) لیگ کی جانب سے تین رکنی پینل سے تقرری کی تجویز دی گئی تھی۔ ججوں کے سپرسیڈ ہونے سے متعلق طریقہ کار بھی وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار اور شیری رحمان کے درمیان طویل مشاورت کے بعد ڈیڈ لاک ختم ہوا اور دونوں جماعتوں نے ترامیم پر مکمل اتفاق رائے کرلیا۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی ڈیڈ لاک نہیں، ترمیم پر سینیٹ میں باقاعدہ بحث ہوگی، حکومت کے نمبر پورے ہیں۔  نیشنل پارٹی بلوچستان نے 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کا اعلان کردیا ہے جب کہ جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی نے بھی حمایت نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

دوسری جانب سینئر وکیل فیصل صدیقی نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر آئینی ترمیم کا فل کورٹ کے ذریعے جائزہ لینے کی درخواست کی ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹ کے 96 رکنی ایوان میں حکومتی اتحاد کو 65 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی کے 26 اور مسلم لیگ (ن) کے 21 ارکان شامل ہیں۔ اپوزیشن کے پاس 31 نشستیں ہیں۔

قومی اسمبلی کے 336 رکنی ایوان (جس میں اس وقت 326 ارکان موجود ہیں) میں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں، جب کہ حکومتی اتحاد کو 237 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

مزید یہ کہ سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم پر کی شق وار منظوری کا عمل جاری ہے، اپوزیشن نے ترمیم کی کاپیاں پھاڑ دیں، پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے 2 ارکان نے بل کی حمایت کردی۔

پی ٹی آئی کے رکن سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان نے 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت کردی، دونوں ارکان نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا۔