تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے تفصیلی استعفیٰ میں لکھا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر ایک سنگین حملہ ہے، جس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے اور ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی ہے۔ اس کے نتیجے میں انصاف عام آدمی سے دور، کمزور اور طاقت کے سامنے بے بس ہو گیا ہے۔ ملک کی واحد اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم کرکے اور عدلیہ کی آزادی کو پامال کرنے سے ملک کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آئینی نظم و نسق کی ہیئت میں اس طرح کی تبدیلیاں زیادہ دیر پا ثابت نہیں ہوتیں اور اصلاح ایک یقینی امر ہے، مگر اس کے چھوڑے ہوئے زخم کے نشانات مندمل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے لکھا کہ اس نازک موڑ پر میرے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو میں ایک ایسے انتظام کا حصہ بن کر رہوں جو اس ادارے کی ہی بیخ کنی کرتا ہے، جس کے تحفظ کا میں نے حلف لیا تھا، یا پھر احتجاجاً اس کے خلاف کھڑے ہو کر عہدہ سے دستبردار ہو جاؤں۔

جسٹس منصور نے لکھا کہ عہدے سے وابستہ رہنا نہ صرف ایک آئینی دراندازی پر خاموش رضا مندی ہوتی، بلکہ ایسی عدالت میں بیٹھنے کے مترادف ہوتا ہے جس کی آئینی آواز مکمل طور پر دبا دی گئی ہے۔ چھبیسویں ترمیم کے برعکس، جب سپریم کورٹ کے پاس ترمیم کی آئینی جانچ کا اختیار موجود تھا، ستائیسویں ترمیم اس اختیار کو بھی ختم کر چکی ہے۔ اس حالت میں، نہ تو میں آئین کا دفاع کر سکتا ہوں اور نہ اس ترمیم کا عدالتی جائزہ لے سکتا ہوں جس نے آئینی ڈھانچے کو بگاڑ دیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایک ایسی عدالت کے اندر رہ کر میں اپنے حلف کی پاسداری نہیں کر سکتا جس سے اس کا آئینی کردار ہی چھین لیا گیا ہو۔ اس لیے استعفیٰ ہی میرے سامنے اپنے حلف سے وفاداری کا واحد صاف، دیانت دار اور مؤثر راستہ بچتا ہے۔ ایسی سپریم کورٹ میں رہنا یہ تاثر دے گا کہ میں نے اپنا حلف عہدے، مراعات یا آسائش کے بدلے بیچ دیا۔ لہٰذا ذیل میں بیان کردہ وجوہات کی بنا پر اور آئین پاکستان کے آرٹیکل کے تحت، میں اپنے عہدے سے فوری طور پر استعفیٰ دیتا ہوں۔

جسٹس منصور کا کہنا تھا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم ایک ایسی حکومت نے کی اور اسے سپریم کورٹ کی ایسی موجودہ قیادت نے قبول کیا جن کی اپنی آئینی حیثیت زیر جائزہ اور سوالات کے کٹہرے میں کھڑی تھی۔ ایسے وقت میں جب عدالت کی آزادی، وقار اور اصولی مزاحمت کی ضرورت تھی، موجودہ چیف جسٹس نے نہ صرف کوئی مزاحمت نہیں کی بلکہ ادارے کا دفاع کرنے کے بجائے، انہوں نے ترمیم کو من وعن قبول کیا اور صرف اپنے عہدے کے تحفظ کو ترجیح دی۔

انہوں نے موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید لکھا کہ جب سپریم کورٹ کا آئینی وجود اور مقام ختم ہو رہا تھا، اور عدلیہ کا سربراہ اپنی ہی متنازعہ حیثیت کے باوجود ادارے کے بجائے اپنے منصب اور عہدے کو ترجیح دے، تو اسے قیادت نہیں بلکہ ادارے سے دستبرداری کہا جاتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی سپریم کورٹ رہی ہے 1948 کی فیڈرل کورٹ سے لے کر 1956 کے آئین کے تحت قائم ہونے والی سپریم کورٹ تک۔ یہ ہمارا مشترکہ ورثہ ہے۔ مگر ستائیسویں ترمیم نے اس ڈھانچے کو توڑ کر سپریم کورٹ کے اوپر ایک نئی "وفاقی آئینی عدالت" قائم کر دی ہے، جو ہمارے عدالتی، جمہوری اور کامن لاء نظام سے سراسر متصادم ہے۔

انہوں نے لکھا کہ یہ ترمیم کسی آئینی ضرورت، قانونی اصول یا عدالتی روایت پر مبنی نہیں ہے۔ اسے بغیر کسی مشاورت، بحث یا عدلیہ کی رائے لیے، پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا۔ اس کا واحد مقصد حکومت کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ اپنی مرضی اور پسند کے جج چن کر ایک ایسی عدالت بنا سکے جو اس کے تابع ہو، بلکہ سپریم کورٹ کو صرف ایک اپیل عدالت میں بدل کر اس کے تمام آئینی اختیارات ختم کر دیے جائیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ مجھے اُن جج صاحبان کے لیے شدید افسوس ہے جنہیں اب اس نئی وفاقی آئینی عدالت کا حصہ بنایا جائے گا۔ ایک ایسی عدالت جسے آئینی بصیرت سے نہیں بلکہ سیاسی مصلحت کے تحت وجود میں لایا گیا ہے۔ یہ کوئی اصلاح نہیں بلکہ خطرناک ترین قسم کی تنزلی ہے۔ یہ ترمیم عدلیہ کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور آئینی فیصلے کرنے والے فورم کی جگہ ایک ایسی عدالت کھڑی کرتی ہے جو اصولوں کے مطابق نہیں بلکہ طاقت کے مطابق ڈھالی گئی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم جو اکتوبر 2024 میں منظور ہوئی، عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنے کا پہلا قدم تھی۔ تب امید تھی کہ سپریم کورٹ بطور فل کورٹ اس ترمیم کا بغور آئینی جائزہ لے گی۔ اس امید پر میں اپنے ادارے سے وابستہ رہا۔ مگر آج وہ امید ختم ہو چکی ہے۔ عدلیہ کی روشنی کسی حادثے سے نہیں، بلکہ اسے بجھایا گیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ جب میں نے 2009 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر حلف لیا، تو میں ایک آئینی عدالت کا حصہ بنا تھا۔ آئین کی بالا دستی، جمہوریت کی مضبوطی، بنیادی حقوق کے تحفظ، اور قانون کی حکمرانی کے لیے کام کرنا میری زندگی کا مقصد تھا۔

آج مجھ سے کہا جاتا ہے کہ میں ایک ایسی عدالت میں بیٹھوں جس کے پاس اپنا آئینی اختیار ہی نہیں بچا۔ ایک ایسی عدالت جو عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ ہی نہیں رہی۔ یہ وہ عدالت نہیں جس میں میں آیا تھا اور نہ وہ عدالتی زندگی جس کا میں نے انتخاب کیا تھا۔

جسٹس منصور نے لکھا کہ میں اپنے فیصلوں کو قانونی طلباء کے لیے چھوڑ دیتا ہوں تاکہ وہ انہیں پڑھیں، ان پر غور کریں اور مجھے امید ہے کہ انہیں سیکھنے کو ملے گا۔ جو کچھ میں نے لکھا، یقین، جذبے اور صدق دل سے لکھا، میری یہ پہلی کوشش آئین پاکستان اور پاکستان کی عوام کے لیے وقف ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایک جج کا حقیقی ورثہ صرف فیصلوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس میں ہے کہ کس طرح قانون کو بہترین انداز سے عوام کی دادرسی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اگر کسی حد تک میرے کام نے اس سمت میں مدد کی ہے، تو میں مطمئن ہوں کیونکہ قانون کی عظمت، زندگی کی طرح، طاقت میں نہیں بلکہ رحم میں پوشیدہ ہے۔

وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں حکومت میں قانون کی حکمرانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو اور عدالتی آزادی کو مقدس امانت کی طرح محفوظ رکھا گیا ہو۔ جہاں انصاف کو جکڑ دیا جائے، قوم صرف لڑکھڑاتی نہیں بلکہ اپنا اخلاقی ربط کھو دیتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب عدالتیں خاموش ہو جاتی ہیں، معاشرے اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ میں ضلعی عدلیہ کے تمام جج صاحبان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ آپ ہی عوام کے اصل رابطے کا مرکز ہیں اور آپ کی دیانت دارانہ خدمت عدلیہ کی حقیقی بنیاد ہے۔

وکلاء اور سرکاری لاء آفیسرز کا بھی شکریہ جنہوں نے میرے سامنے پیش ہوتے رہے اور میرے ساتھ تعینات رہنے والی ریسرچ افسران اور لاء کلرکس کا میں معترف ہوں۔ آپ کی وکالت اور محنت نے قانون کو سمجھنے میں میری بھرپور مدد کی۔ ان نوجوان وکلاء کو جواب اپنے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ قانون ضمیر کی ایک پکار ہے۔ آپ کی تعلیم اور استحقاق ضائع ہو جائیں گے اگر جب وقت آئے، آپ آئین کے ساتھ نہ کھڑے ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے میرے محنتی اسٹاف، خاص طور پر میرے سیکرٹریز اور قاصدین کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے میرے ارد گرد ایک پر سکون، باوقار اور آزاد ماحول قائم رکھا جس میں میں پوری توجہ سے اپنے فرائض سر انجام دے سکا۔ میں اپنے گھر کے عملے کا بھی شکریہ کہتا ہوں، جنہوں نے ان تمام سالوں میں انتہائی وفاداری اور ایمانداری سے میرا ساتھ دیا۔

اپنے ساتھی ججوں اور ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ جن کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقع ملا۔ اگر میرے کسی عمل یا بات سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو میں دلی معذرت چاہتا ہوں۔

اپنے قریبی دوستوں کا میں دل کی گہرائی سے شکر گزار ہوں، بالخصوص اپنے اسکول کے وہ ساتھی جو تمام عمر میرے ساتھ چلتے رہے، اور ان چند باوفا دوستوں کا بھی جن سے بعد میں رفاقت ہوئی اور جن کی دوستی میں آج بھی بے حد قدر کرتا ہوں۔ اُن کی ثابت قدمی، خاموش قوت اور بے لوث وفاداری نے اس سفر میں ہمیشہ میرا حوصلہ بلند رکھا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ اپنے اہل خانہ کا شکریہ جنہوں نے ہر موڑ پر میرا ہاتھ تھاما۔ اپنے والدین، خصوصاً اپنی والدہ کی دعاؤں اور اخلاقی تربیت کا مقروض ہوں۔ اپنی اہلیہ کا جنہوں نے ہمیشہ مضبوطی، سچائی اور ضمیر کی آواز بن کر میرا ساتھ دیا۔ اپنے بچوں کا جنہوں نے میری زندگی کے ہر دکھ سکھ میں میرا ساتھ نبھایا، اور اپنے چھوٹے بیٹے کا، جس نے مجھے سکھایا کہ اللہ بہترین منصوبہ ساز ہے۔

آخر میں انہوں نے احمد فراز کے اشعار لکھتے ہوئے کہا کہ یہ اشعار میرے یقین کا سہارا ہیں:

مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی

مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے

اس لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا

جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے

میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے

کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا

تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم

مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

واضح رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر عدلیہ متحد نہ ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے متاثر ہوں گے۔

10 نومبر کو لکھے گئے اس خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ تاریخ خاموش رہنے والوں کو نہیں، آئین کی سربلندی کے لیے کھڑے ہونے والوں کو یاد رکھتی ہے۔

انہوں نے چیف جسٹس پر زور دیا کہ بطور عدلیہ سربراہ فوری طور پر ایگزیکٹو سے رابطہ کریں اور واضح کریں کہ آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں کی جا سکتی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے یہ بھی تجویز دی کہ آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بلایا جا سکتا ہے تاکہ 27ویں ترمیم کے اثرات پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔

خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا تھا کہ جب 26ویں آئینی ترمیم پر اب بھی سوالات باقی ہیں تو نئی ترمیم لانا مناسب نہیں۔

انہوں نے لکھا کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے جواز کے طور پر زیرِ التوا مقدمات کا حوالہ دیا جا رہا ہے، حالانکہ زیادہ تر مقدمات ضلعی عدلیہ کی سطح پر ہیں، سپریم کورٹ میں نہیں۔

دوسری جانب آج صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر 27ویں آئینی ترمیمی بل پر دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ بل آئین کا حصہ بن گیا۔