ذرائع کے مطابق دہشت گرد پوری کاروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل پیرا تھے، جب کہ حملے کی منصوبہ بندی خارجی "زاہد" نے کی تھی۔

خارجی نورولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری "جیش الہند" کے نام سے قبول کی گئی تھی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خارجی نورولی فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی سے ذمہ داری ہٹانا چاہتا تھا، اسی لیے حملے کے دوران بنائی گئی ویڈیو میں خارجی بار بار جیش الہند کا نام لیتا رہا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے فتنہ الخوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصلی شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ اس حوالے سے بڑھ جاتا ہے، اس لیے انہوں نے جیش الہند کا سہارا لیا تاکہ پکڑے نہ جائیں۔

آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ خوارج "جیش الہند" کا متعدد بار نام لیتے ہوئے اردو میں بات کر رہا ہے تاکہ اصل شناخت سامنے نہ آئے۔

اس حملے کے لیے تمام ساز و سامان افغانستان سے فراہم کیا گیا، جس میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سیکورٹی خدشات بڑھانا تھا، جو کہ انڈین ایجنسی را کی ڈیمانڈ تھی۔

دوسری جانب حملے میں مارے گئے افغان دہشت گردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اور عزمِ استحکام کے تحت آخری دہشت گرد کے ختم ہونے تک، ان شاء اللہ، آپریشن جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ 10 نومبر کو پانچ شدت پسندوں نے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کیا تھا۔ افغان خوارجیوں نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سے کالج کا مرکزی دروازہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا تھا، جب کہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے دو خارجیوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر دیا تھا۔

منگل کو سیکیورٹی فورسز نے عمارت کے اندر چھپے دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن جاری رکھا۔

بدھ کی صبح سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ایک خودکش بمبار سمیت 5 خوارج مارے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ کالج کی عمارت میں تلاشی کا عمل تاحال جاری ہے کیونکہ وہاں بارودی سرنگوں کے خطرات موجود ہیں، ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران کالج کے کسی طالب علم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

رات گئے نجی چینل ’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس آپریشن کو پاک فوج کی ’بڑی کامیابی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 550 طلبہ کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

یاد رہے کہ افغان حکومت نے اس حملے پر دُکھ کا اظہار کیا ہے، جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

منگل کی دوپہر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام عائد کیا تھا کہ اس حملے میں افغانستان براہِ راست ملوث ہے اور یہ کہ کیڈٹ کالج میں موجود شدت پسند افغانستان میں رابطے میں رہے۔