اپریل 4, 2025 7:40 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ریلیف کے نام پر فریب؟ 5 ہزار سے کتنے دن گزارے جا سکتے ہیں؟

عاصم ارشاد
عاصم ارشاد

وزیرِاعظم پاکستان نے رمضان المبارک میں 40 لاکھ خاندانوں (تقریباً 2 کروڑ افراد) کو ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے 5 ہزار روپے فی گھرانہ دینے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے حکومت نے 20 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بظاہر یہ اقدام مستحق خاندانوں کے لیے ایک بڑا ریلیف دکھائی دیتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ مہنگائی کے دور میں 5 ہزار روپے واقعی کسی خاندان کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں؟

ایک چار افراد پر مشتمل گھرانے (میاں، بیوی اور دو بچے) کی بنیادی اشیائے خورونوش پر ہونے والے اخراجات کچھ یوں ہیں

 

یہ صرف بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمت ہے، جس میں سبزیاں، پھل، گوشت، دودھ اور دیگر اشیاء شامل نہیں۔ اگر افطار میں پکوڑے، فروٹ چاٹ، یا گوشت شامل کرنا چاہیں تو بجٹ کئی گنا بڑھ جائے گا۔

حکومت کے دیے گئے 5 ہزار روپے میں تو صرف آٹا، چینی، اور دالیں ہی آسکتی ہیں، جبکہ پھل، سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔

رمضان میں کیلے، امرود، سیب، اور سٹرابیری جیسا فروٹ تو خواب بن جائے گا،گوشت اور دودھ ایک عام شہری کی پلیٹ میں نظر آنا مشکل ہوگا،شہری سبزی، آلو، پیاز، ٹماٹر خریدنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور ہوں گے۔

یہاں اصل مسئلہ 5 ہزار روپے کی امداد نہیں، بلکہ وہ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

 ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا؟

یہ بھی پڑھیں:رمضان المبارک، برکتوں کا مہینہ مگر قیمتیں کیوں بڑھ جاتی ہیں؟

 پرائس کنٹرول کمیٹیاں صرف کاغذوں میں ہی کیوں رہتی ہیں؟

 رمضان بازاروں میں عوام کو معیاری اور سستی اشیاء کیوں نہیں ملتیں؟

 اگر مسئلہ طلب و رسد (ڈیمانڈ اینڈ سپلائی) کا ہے تو حکومت سپلائی بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کرتی؟

حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو 5 ہزار روپے تقسیم کرنے کی بجائے مہنگائی پر قابو پانے کے عملی اقدامات کرے، جیسے،ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی، بنیادی اشیائے خورونوش پر سبسڈی تاکہ عوام کو سستے داموں اشیاء دستیاب ہوں،پرائس کنٹرول میکانزم کو مضبوط کرنا تاکہ مصنوعی مہنگائی پیدا نہ ہو اور رمضان بازاروں کو حقیقی معنوں میں فعال اور مؤثر بنانا۔

لازمی پڑھیں: پاکستانی شہریوں کے لیے رمضان پیکج کا اعلان، فی خاندان کتنی رقم ملے گی؟

5 ہزار روپے کی امداد وقتی ریلیف تو دے سکتی ہے، لیکن یہ کسی بھی خاندان کے لیے ایک ماہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف اعلانات نہیں، بلکہ عملی اقدامات کرے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے اور رمضان کسی غریب کے لیے فاقہ کشی کا مہینہ نہ بنے

عاصم ارشاد

عاصم ارشاد

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس