وزیراعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منشیات کے مینوفیکچررز اور سپلائرز کے خلاف آپریشن تیز کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ متعلقہ محکموں اور اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی جائے گی جو مربوط حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کرے گی۔

ان  کا  کہنا تھا کہ منشیات کی لعنت اب جامعات تک پہنچ چکی ہے، ہم مزید غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ نوجوان نسل کو محفوظ رکھنے کےلیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں، اس لئے منشیات کے بڑے سپلائرز اور ڈیلرز کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان دہشت گردوں کی اور انڈیا افغانستان کی پشت پناہی کر رہا ہے، خواجہ آصف 

ان کی  ہدایت  کے مطابق منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے، کارروائی حقیقی بنیادوں پر ہو اور کسی بے گناہ کو تنگ نہ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ضبط شدہ منشیات کو فوری طور پر تلف کرنا ضروری ہے تاکہ یہ دوبارہ کسی صورت مارکیٹ میں واپس نہ آسکیں۔

حکومت متعلقہ اداروں کو مکمل تعاون فراہم کرے گی، منشیات کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ کا واضح اعلان۔