اپریل 5, 2025 1:07 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

لندن کی عدالت نے چینی طالبعلم کو 10 خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے پر مجرم قرار دے دیا

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
لندن کی عدالت نے چینی طالبعلم کو 10 خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے پر مجرم قرار دے دیا

لندن میں اندرونی کراؤن کورٹ نے بدھ کے روز ایک لرزہ خیز مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے چینی طالبعلم ‘ژنہاؤ زو’ کو 10 خواتین کو نشہ دے کر جنسی زیادتی کرنے کا مجرم قرار دے دیا۔

اس کے علاوہ عدالت نے مزید 28 سنگین جرائم میں مجرم کو قصوروار ٹھہرایا، جن میں 11 بار ریپ، جنسی زیادتی اور ویڈیوز بنانے کے الزامات شامل تھے۔

28 سالہ زو کا بھیانک چہرہ اس وقت بے نقاب ہوا جب ایک متاثرہ خاتون نے بہادری سے پولیس کو رپورٹ درج کرائی۔

تفتیش کے دوران پولیس نے مجرم کے گھر سے نشہ آور دوائیں، خفیہ کیمرے اور خواتین کے زیورات اور کپڑے برآمد کیے۔

مجرم کے لیپ ٹاپ اور موبائل فونز سے سینکڑوں ویڈیوز اور لاکھوں پیغامات بھی برآمد ہوئے جن سے یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ زو نہ صرف برطانیہ بلکہ چین میں بھی خواتین کو نشہ دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا تھا۔

ژنہاؤ زو نے 2017 میں برطانیہ کا رخ کیا اور یونیورسٹی کالج لندن میں پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لیا۔ بظاہر ایک ہونہار طالبعلم نظر آنے والا یہ شخص دراصل خواتین کے لیے خطرناک درندہ ثابت ہوا۔

زو ڈیٹنگ ایپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے خواتین سے رابطہ کرتا اور انہیں اپنے گھر پر پڑھائی یا ڈرنکس کے بہانے بلا کر نشہ آور چیزیں دے کر بیہوش کر دیتا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زو نے تمام زیادتیوں کی ویڈیوز خفیہ طور پر ریکارڈ کیں اور متاثرہ خواتین کو کبھی ان کے حملے کا علم ہی نہیں ہوا۔

برطانوی پولیس کے مطابق یہ معاملہ اب بھی کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ تفتیشی افسران کا ماننا ہے کہ زو کی درندگی کا نشانہ بننے والی 50 سے زائد خواتین اب بھی سامنے نہیں آئیں۔

پولیس نے خصوصا چینی طالبعلم کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو زو کے ساتھ رابطے کا علم ہو تو فوری طور پر رپورٹ کریں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ “یہ شخص نہ صرف ایک سیریل ریپسٹ ہے بلکہ خواتین کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔ ہم نے نامعلوم متاثرین کے لیے بھی انصاف یقینی بنانے کا عزم کیا ہے۔”

برطانوی پولیس نے چینی حکام کے ساتھ مل کر تحقیقات کیں تاکہ زو کے چین میں کیے گئے جرائم کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔

ژنہاؤ زو کی گرفتاری اور سزا نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ خواتین کو انصاف دلانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

یہ مقدمہ خواتین کی حفاظت اور ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے پیش آنے والے خفیہ خطرات کے بارے میں ایک خوفناک انتباہ بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں: فرانس کے صدر میکرون کا یوکرین اور تجارتی جنگوں پر قوم سے خطاب، اہم فیصلوں کی توقع

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس