اپریل 5, 2025 1:03 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

چین کو طویل افراطِ زر کی کمی کا سامنا، ماہرین نے خبردار کر دیا۔

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
چینی وزیر اعظم لی چیانگ کے صارفین پر نئے سرے سے زور دینے کے باوجود پالیسی اقدامات کی اتنی قوت سے مطابقت نہیں رکھتی( فائل فوٹو)

چینی معیشت کو طویل افراطِ زر (مہنگائی) میں مسلسل کمی کا سامنا ہے، جس پر ماہرین اقتصادیات خبردار کر رہے ہیں کہ واشنگٹن کے ساتھ جاری تجارتی جنگ اور اندرونی چیلنجز بیجنگ کو اس معاشی بحران سے جلد نکلنے نہیں دیں گے۔

عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کے وزیر اعظم لی چیانگ نے نیشنل پیپلز کانگریس میں حکومتی ورک رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس سال مزید مالیاتی محرکات اور گھریلو اخراجات میں اضافے کا عندیہ دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ اب بھی اپنی معیشت کو سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ برآمدات پر انحصار کرنے والے ماڈل سے نکالنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے، کیونکہ یہ تبدیلی چین کے 5 فیصد سالانہ اقتصادی ترقی کے ہدف کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور دیگر ممالک میں چین کی برآمدات پر بڑھتے ہوئے تجارتی محصولات چینی برآمد کنندگان کو قیمتوں کی جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمپنیاں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے ملازمتوں اور اجرتوں میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں، جس سے معیشت پر مزید ڈیفلیشنری دباؤ بڑھ رہا ہے۔

چین نے سرکاری افراط زر کے ہدف کو کم کر کے 2025 میں تقریباً 2 فیصد کر دیا ہے، جو کہ 2024 میں 3 فیصد تھا۔

واضح رہے کہ چینی حکام عام طور پر افراط زر کے مسائل پر کھل کر بات نہیں کرتے، تاہم لی چیانگ کی ورک رپورٹ میں موجود کچھ اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ بیجنگ اس معاشی خطرے سے غافل نہیں ہے۔

بجٹ خسارہ اور حقیقی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو کے تخمینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام اپنی پالیسیوں میں جس جی ڈی پی ڈیفلیٹر کو بنیاد بنا رہے ہیں، وہ 0.1پر متوقع ہے، یہ مسلسل تیسرے سال منفی رہے گا، جو کہ ماؤ زے تنگ کے ‘گریٹ لیپ فارورڈ’ کے بعد چین میں سب سے طویل ڈیفلیشنری دور ہو گا۔

یہ پچھلے سال کے 0.8کے حقیقی جی ڈی پی ڈیفلیٹر سے تو کچھ بہتری ظاہر کرتا ہے، لیکن لی کی 2024 کی ورک رپورٹ میں ظاہر کیے گئے 2.4 فیصدکے تخمینے سے کہیں کم ہے۔

نیٹیکسس کی چیف اکانومسٹ ایلیسیا گارسیا ہیریرو کے مطابق چین کو ہر حال میں برآمدات کرنی ہوں گی، چاہے محصولات کچھ بھی ہوں، کیونکہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

کیپٹل اکنامکس کے تجزیہ کار جولیان ایونز پریچارڈ کا کہنا ہے کہ پالیسی ساز اس سال مہنگائی میں اضافے (ریفلیشن) پر انحصار نہیں کر رہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ چین کو اپنی معیشت میں بہتری لانے کے لیے مزید مؤثر اور بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس