سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ میکرون خود کوئی بڑا خطرہ نہیں، وہ 14 مئی 2027 کے بعد ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گے اور کوئی انہیں یاد بھی نہیں کرے گا۔
عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق میکرون نے بدھ کے روز قوم سے خطاب میں کہا کہ روس یورپ کے لیے خطرہ ہے، پیرس اپنے اتحادیوں کو جوہری تحفظ فراہم کرنے پر بات کر سکتا ہے اور وہ ان یورپی ممالک کے فوجی سربراہان کا اجلاس بلائیں گے جو کسی امن معاہدے کے بعد یوکرین میں امن فوج بھیجنے پر آمادہ ہوں۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے میکرون کے بیان کو ‘انتہائی جارحانہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرانس یوکرین میں جنگ کو طول دینا چاہتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے فرانسیسی صدر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطاب درحقیقت روس کے خلاف براہ راست دھمکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میکرون اپنے پیشرو نپولین اور ہٹلر کی طرح روس کے خلاف غیر محتاط رویہ اپنا رہے ہیں، جب کہ نپولین اور ہٹلر کھل کر روس کو شکست دینے کی بات کرتے تھے۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ نے مغربی ممالک اور ماسکو کے تعلقات کو 1962 کے کیوبا میزائل بحران جیسی کشیدگی تک پہنچا دیا ہے، جس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی غلطی سے صورتحال تیسری عالمی جنگ تک جا سکتی ہے۔
Russia has become, as I speak to you and for years to come, a threat to France and Europe, says Macron. Micron himself poses no big threat though. He’ll disappear forever no later than May 14, 2027. And he won’t be missed.
— Dmitry Medvedev (@MedvedevRussiaE) March 5, 2025
فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار روس اور امریکہ کے پاس ہیں، جن کی تعداد 5 ہزار سے زائد ہے، جب کہ چین کے پاس تقریباً 500، فرانس کے پاس 290 اور برطانیہ کے پاس 225 جوہری وارہیڈز ہیں۔
روسی سیاستدانوں نے میکرون کی بیان بازی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے ان پر طنز کیا۔ روسی کارٹونز میں انہیں نپولین کے طور پر دکھایا جا رہا ہے، جو 1812 میں روس میں شکست کی طرف بڑھ رہے تھے۔
سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ میکرون خود کوئی بڑا خطرہ نہیں، وہ 14 مئی 2027 کے بعد ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گے اور کوئی انہیں یاد بھی نہیں کرے گا۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے میکرون کے فوجی اثر و رسوخ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اصل فوجی حیثیت جانچنے کے لیے مدد لینا چاہتے ہیں۔
ماسکو نے فرانس کی یورپ میں جوہری قیادت کی خواہش کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیرس کی یہ کوشش نہ تو فرانس اور نہ ہی اس کے اتحادیوں کی سیکیورٹی کو مضبوط کرے گی، بلکہ خطے کو مزید غیر مستحکم کر دے گی۔