اپریل 5, 2025 1:18 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

امریکہ عالمی نظام کو ‘تباہ’ کر رہا ہے، یوکرینی سفیر کا دعویٰ

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
امریکہ عالمی نظام کو 'تباہ' کر رہا ہے، یوکرینی سفیر کا دعویٰ( فائل فوٹو: رائٹرز)

یوکرین کے برطانیہ میں سفیر والییری زالوژنی نے امریکہ پر عالمی نظام کو تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی روس کے ساتھ مفاہمت کی کوششیں یورپ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

عالمی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یوکرینی سفیر والییری زالوژنی نے امریکہ کی جانب سے روس سے آدھے راستے میں ملنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا ہے۔

یوکرین کے برطانیہ میں سفیر نے غیرمعمولی سخت الفاظ ایسے وقت میں کہہ ہیں جب یوکرین واشنگٹن میں صدر وولودیمیر زیلینسکی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تباہ کن ملاقات کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے تلخ تبادلہ خیال کے بعد امریکہ نے یوکرین کو فوجی امداد معطل کر دی اور انٹیلیجنس شیئرنگ روک دی، جس سے کیف میں یہ خدشات بڑھ گئے کہ ٹرمپ انتظامیہ روس کی حمایت میں جھک رہی ہے۔

چیتھم ہاؤس لندن میں ایک پینل گفتگو کے دوران زالوژنی نے کہا کہ صرف روس ہی نہیں ہے جو عالمی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بلکہ امریکہ اس نظام کو تباہ کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے مغربی دنیا کے اتحاد پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ روس کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اور اس عمل میں یوکرین اور یورپ کو نظرانداز کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب واشنگٹن بغیر امریکا کی شمولیت کے سیکیورٹی کے معاملات کو یورپ کے سپرد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے نیٹو کے مستقبل پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مستقبل قریب میں نیٹو کا وجود بھی ختم ہو سکتا ہے۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کریملن کی طرف قدم بڑھا رہا ہے اور ان سے آدھے راستے میں ملنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا اگلا ہدف یورپ ہو سکتا ہے۔

ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ٹرمپ کی پالیسیوں میں ڈرامائی تبدیلی کے بعد یورپ میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ روس کے مستقل خطرے کے پیش نظر امریکی حمایت پر انحصار نہیں کر سکتا۔

یوکرین کے یورپی اتحادیوں نے ٹرمپ اور زیلینسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی کشیدگی کے بعد یوکرین کے صدر کی حمایت کی ہے، اس ملاقات کا انجام اس وقت ہوا جب زیلینسکی کو مبینہ طور پر وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا۔

مزید پڑھیں: میکرون 2027 کے بعد ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گے، سابق روسی صدر کی پیشگوئی

اس کے بعد زیلینسکی نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات ویسے نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہیے تھی اور اسے افسوس ناک قرار دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ تنازعے کا حل نکالا جا سکے۔

دوسری جانب یورپی رہنما جمعرات کو برسلز میں ہنگامی اجلاس کے لیے اکٹھے ہوئے، جہاں انہوں نے یوکرین کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات میں شامل ہونے کی کوشش کی۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس