نجی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جانچ پڑتال اور ضروری قانونی مشاورت کے بعد مسودہ سندھ اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے یکم دسمبر کو کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ ان کی سفارش پر سندھ کے گورنر سندھ اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کر چکے ہیں جو بدھ سے شروع ہوگا۔
اجلاس کئی روز تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس دوران حکومت متعدد اہم بل پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں سندھ لوکل گورنمنٹ قانون میں ترامیم کا جامع پیکج بھی شامل ہے۔
اسی اجلاس میں بین الاقوامی مرکز برائے کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز کو جامعہ کراچی سے الگ کرنے سے متعلق وہ بل بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس پر گزشتہ کئی ماہ سے شدید بحث جاری ہے۔
پیپلز پارٹی کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ مسودے میں زیر غور اہم تجاویز میں سے ایک یہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی روایت ختم کر دی جائے۔ اس کے برعکس، موجودہ میئرز، چیئرمین اور دیگر منتخب سربراہان نئے انتخابات کے انعقاد تک اپنے عہدوں پر کام کرتے رہیں گے، تاکہ نظام میں تسلسل برقرار رہے۔
صوبائی حکومت کی ترجمان اور رکن سندھ اسمبلی سعدیہ جاوید کے مطابق کابینہ اجلاس کے ایجنڈے کو ابھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ ایسے اقدامات کی حامی رہی ہے جو مقامی حکومتوں کو بااختیار بنائیں اور متوقع ترامیم سے قانون مزید مضبوط ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ اسمبلی اجلاس میں کئی اہم قانون سازی متوقع ہے، جن میں حالیہ آئینی ترامیم کی روشنی میں سندھ میں آئینی عدالت کے قیام سے متعلق بل بھی شامل ہے۔






