اسلام آباد میں پاکستان بزنس کونسل کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام، مسابقت اور مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات تیز رفتار سے آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کے ایجنڈے پر کام جاری ہے اور ملک کو کیش اکانومی سے ڈاکومینٹڈ اکانومی کی طرف لے جانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ اوسط قرض میچورٹی بڑھ کر 4 سال ہوگئی ہے اور ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے 3 فیصد معاشی نمو کا امکان ہے، جبکہ اگلے برس یہ شرح 4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، اور درمیانی مدت میں گروتھ 6 سے 7 فیصد تک جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف شرائط بڑی رکاوٹ بن گئیں، عوام کو ریلیف نہیں دے پا رہے: رانا ثنااللہ


وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری نظام فعال ہونے کے قریب ہے اور ملکی معیشت کی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی سیکٹر ملک کی معیشت کو آگے لے کر جا رہا ہے۔

اس موقع پر وزیر خزانہ نے بتایا کہ 11 ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا اور ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے ڈاکٹرز، بیوٹی پارلرز اور سیمنٹ سیکٹرز کے آڈٹ کا بھی فیصلہ کیا ہے۔