عدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کے 15 روز کے اندر پرموشن پالیسی کا اجلاس بلا کر رپورٹ پیش کی جائے۔

دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "ہم لوگ 80 کی دہائی کی نسل سے ہیں جنہوں نے ڈکٹیٹر شپ کے دوران آنکھ کھولی، یہاں ایسے اساتذہ بھی ہیں جنہیں 17، 18 سال تک مستقل نہیں کیا گیا۔"

جسٹس کیانی نے مزید کہا کہ اساتذہ کی مایوسی طلباء پر بھی اثر ڈالے گی، اور اساتذہ و طلباء دونوں ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ابھی یہ بات سمجھ نہیں آئے گی، جب مشکل وقت آئے گا تو معلوم ہوگا۔"

مزید پڑھیں: تعلیمی اداروں کے احاطوں میں سیاسی اجتماعات پر مکمل پابندی


انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلبا آگے جاکر کمانڈ کریں گے اور ملک کے دفاع کا بہترین نمونہ حال ہی میں دیکھا گیا ہے، لہٰذا اساتذہ کو اچھی جگہ پر ہونا چاہیے۔ "ابھی تو ججز بھی نہیں رہے، صرف اساتذہ ہی ہیں۔"

عدالت نے سیکریٹری خزانہ اور ایچ ای سی کو ہدایات کے ساتھ سماعت جنوری تک ملتوی کر دی۔