ذرائع کے مطابق مشاورتی اجلاس میں علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منگل کو دوبارہ احتجاج کی کال دی جائے گی جبکہ آج ہی ہائی کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی۔ اسی کے ساتھ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں بھرپور احتجاج کرنے کی حکمتِ عملی بھی طے کر لی گئی ہے۔
مشاورت کے بعد محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس دھرنے کے مقام سے روانہ ہو گئے جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شدید سرد موسم میں سڑک کنارے آگ کے پاس بیٹھے نظر آئے۔
تحریکِ تحفظِ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دھرنا کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ وزیراعلیٰ کے اس یقین کے باوجود دیا گیا کہ انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے حکمرانوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’پانچ ہزار تین سو ارب چور‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’یہ مینڈیٹ چور اور غاصب ہیں‘‘۔
محمود اچکزئی نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات کرانی ہے تو عوامی طاقت کے ذریعے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی کارروائی روک دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے شرم کا مقام ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ہم اسمبلیوں کی کارروائی جاری رہنے دیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھی آج نمازِ فجر کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ جائیں گے جبکہ محمود اچکزئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ عدالت میں وزیراعلیٰ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کر چکے ہیں اور اب ایسا کوئی راستہ باقی نہیں جس کے ذریعے وہ اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود نہ انہیں اور نہ ہی دیگر رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ بانی چیئرمین کی بہنوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور انہیں اڈیالہ روڈ پر بالوں سے پکڑ کر روکا گیا، جو ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ اپنے ہی احکامات پر عملدرآمد نہیں کرا رہی، اور اگر یہی صورتحال رہی تو ملک میں ’’جنگل کا قانون‘‘ قائم ہو جائے گا، جس کا نقصان پورے نظام کو اٹھانا پڑے گا۔







