ترجمان ٹریفک پولیس نے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر 40ہزار شہریوں کے چالان کیے گئے، سنگین ٹریفک وائلیشنز پر 344 ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر 6 ہزار 700 سے زائد گاڑیاں بند کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 131 افراد حوالات میں بند کیے گئے، بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنے والے 6 ہزار سے زائد افراد کو بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ ون وے کی خلاف ورزی پر 1870 افراد کو بھاری جرمانے اور سخت قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان ٹریفک پولیس نے کہا ہے کہ بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والے 5 ہزار سے زائد افراد کو چالان ٹکٹ جاری کیے گئے، پبلک ٹرانسپورٹ پر پیسنجر اوور لوڈنگ کرنے پر 630 گاڑیوں کو بھاری جرمانے اور بند کر دیا۔
ترجمان نے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں 1500 سے زائد کم عمر ڈرائیورز کے خلاف سخت کاروائیاں کی گئیں، سموگ تدارک کے 3800 گاڑیوں کے چلان اور 1 ہزار گاڑیوں کو بند کیا گیا، حادثات میں ملوث 2 گاڑیوں پر ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا۔
ترجمان ٹریفک پولیس نے کہا ہے کہ غیر محفوظ 812 گاڑیوں کو بھاری جرمانے اور 222 گاڑیوں کو بند کیا گیا، ٹریفک میں خلل ڈالنے والے نشئیوں اور بھکاریوں کے خلاف 11 ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا، غیر نمونہ نمبر پلیٹ لگانے والے 2036 اور غلط پارکنگ کرنے والے 536 افراد کو چالان ٹکٹ جاری کیے گئے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں روزانہ 114 خواتین تشدد کا شکار، چھ ماہ میں 20 ہزار 698 واقعات رپورٹ
ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پنجاب محمد وقاص نذیر نے کہا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری ہماری بنیادی اور قومی ذمہ داری ہے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر صوبہ بھر میں زیرو ٹالرنس کاروائی جاری ہے، بھاری جرمانوں اور قانونی کاروائیوں سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اور غیر سرکاری گاڑیوں کے خلاف صوبہ بھر بلا تفریق کاروائیاں جا رہی ہیں، سخت کاروائیوں کا مقصد انسانی زندگیوں کا تحفظ اور منظم ٹریفک کا حصول ہے۔







