سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے آپ اسے دشمن بنانے کی کوشش نہ کریں، کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے لڑائی مول لے رہے ہیں۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو نہ تو اخبار فراہم کیا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں ٹی وی دیکھنے دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ حالیہ واقعات سے بے خبر ہیں۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے عمران خان کو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا کہ اسی لیے ان کا اخبار اور ٹی وی بند کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا واضح مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی ان کی اجازت کے بغیر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت نہیں کر سکتی، یعنی پارٹی رہنما ان کی اجازت کے بعد ہی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔
عمران خان نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے گراف کو دیکھا جائے تو 2021 تک اس میں کمی آئی تھی، لیکن 2022 سے دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا دشمن نہیں ہے، اس کے ساتھ دشمنی پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے، ہم کیوں بلاوجہ مسلمان بھائیوں سے تصادم کی راہ اختیار کریں؟
علیمہ خان نے مزید بتایا کہ جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق بشریٰ بی بی اور عمران خان کو آدھا گھنٹہ فیملیز کے ساتھ اور پھر آپس میں ملاقات کی اجازت ہونی چاہیے، جس کا مجموعی وقت ڈیڑھ گھنٹہ بنتا ہے، لیکن انہیں صرف 30 منٹ ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔ تاہم، احتجاجاً آج 45 منٹ کی ملاقات کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بچوں سے فون پر بات نہیں کروائی جا رہی اور نہ ہی ان کے ذاتی معالج سے طبی معائنہ کروایا گیا، حالانکہ عدالت نے ڈاکٹر ثمینہ نیازی کو ان کے دانتوں کا طبی معائنہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ہر ممکن طریقے سے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں جب نواز شریف کو جیل میں ڈالا گیا تو کلثوم نواز کو قید نہیں کیا گیا تھا، لیکن عمران خان کے ساتھ ان کی اہلیہ کو بھی جیل میں رکھا گیا تاکہ ان پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

ان کے مطابق، عمران خان نے واضح کیا کہ وہ ملک میں آزادی، اتحاد، قانون کی حکمرانی اور ظلم کے خلاف کھڑے ہیں۔ اگر انہیں ان اصولوں پر قائم رہنے کی وجہ سے جیل میں رکھا جاتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ اگر مخالفین یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے ہتھکنڈوں سے وہ دباؤ میں آ جائیں گے، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، وہ اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومت نے ان کے کیسز کو غیر ضروری تاخیر کا شکار کر دیا ہے، ملاقاتوں پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں، اور اس وقت ملک میں کوئی قانون کام نہیں کر رہا۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں کون فیصلے کر رہا ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ پاکستان بدل چکا ہے، اور ہم مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ کبھی بھی اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، اور پاکستانیوں کو ملک کی سلامتی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔