سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے دہشت گرد ہیں اور ان کا کوئی مذہب اور فرقہ نہیں ہوتا۔
قومی اسمبلی میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو اجلاس میں نہ دیکھ کر مایوسی ہوئی، اگر ان سے مشورہ کیا جاتا تو وہ ضرور اجلاس میں شرکت کا مشورہ دیتے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ 1988 سے اس ایوان کا حصہ رہے ہیں اور ہمیشہ آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ وہ استاد کو شہید کہیں گے، لیکن مارنے والے کو مجاہد نہیں کہا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف مکاتب فکر کے علما پہلے بھی فتویٰ دے چکے ہیں اور ان کا مؤقف واضح ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا دہشت گرد ہے۔
مزید پڑھیں: جعفر ایکسپریس کا سفر دوبارہ شروع، اب ٹرین کی نگرانی ڈرون سے ہوگی، وزیر ریلوے کا اعلان
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیاسی قیادت اور قوم کو کسی مخمصے کا شکار ہوئے بغیر متحد ہونا ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمیں اپنے سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اس ایشو پر اکٹھا ہونا ہوگا، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔