اگر صبح جاگتے ہی خبر سننے کو ملے کہ آپ کے ملک کی حکومت تبدیل ہو گئی ہے تو آپ کیا سوچیں گے۔ بالکل ایسا ہی ماضی میں مشرقی پاکستان کہلائے جانے والے بنگلا دیش میں ہوا جب ایک دن 15 سال تک وزیراعظم رہنے والی شیخ حسینہ واجد نے اچانک استعفیٰ دیا اور انہیں جان بچا کر ملک سے فرار ہونا پڑا۔ پاکستان کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ہی بحث چھڑ چکی ہے۔ پاکستان کے حالات کو بدتر کہنے والےکہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ایسا ہوسکتا ہے مگر حکومت کے حامیوں کا نقطہ نظراس کے بالکل برعکس ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت میں ایسا ممکن ہے؟
بنگلا دیش میں تبدیلی کے محرک طلباوعوام کازبردست احتجاج اور کامیاب حکمتِ عملی تھے۔ عوام میں یہ غصہ تب پروان چڑھا جب حکومت کی طرف سے کوٹہ سسٹم میں ترمیم کرنے کے بارے میں بات ہوئی۔ یہ عوامی غیظ و غضب بنگلا دیشی حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔ حکومت گرانے کے بعد عوام نے بنگلادیش کے بانی سمجھے جانے والے شیخ مجیب الرحمان کے مجسمے تک کو مسمار کر دیا، مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ کے حامیوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا اور حکومتی اراکین کے خلاف زبردست عوامی احتجاج نے جنم لیا۔ عوامی غیظ و غضب بنگلا دیش میں عبوری حکومت کے قیام سے تھما اور ملک گیر احتجاج کا سلسلہ بھی تمام ہوا۔
اب بہت سے لوگ یہ قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ شاید پاکستان میں بھی ایسے حالات رونما ہو سکتے ہیں۔ اگر ان قیاس آرائیوں پر غور کیا جائے تو سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہےکہ کیا پاکستانی عوام اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے سامنے اس طرح کی بغاوت کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟کیا یہ قیاس آرائیاں کبھی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہیں یا پھر لفظی گولہ باری ہے؟
گزشتہ2 سال سے پاکستان شدید سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے کردار اور سیاسی جماعتوں کی غیر منظم سیاسی حکمتِ عملی اس بحران کی سب سے بڑی وجہ ہے، اپریل 2022 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے بے دخل کیا گیا۔ جس کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کو مختلف مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور جیل بھی کاٹ رہے ہیں۔ مزید براں تحریک انصاف کے رہنماؤں پہ مسلسل پابندیاں اور مبینہ گمشدگیاں سیاسی بحران کو مزید بڑھاوا دے رہی ہیں۔

معاشی بحران توایک طرف یہاں تو سماجی مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنا ہے۔ حکومت کی جانب سے لگاتار توانائی سمیت روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی تمام تراشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں گمشدہ افراد کو لے کر مختلف تحریکیں جنم لے رہی ہیں اور عوام سڑکوں پر آنے لگے ہیں۔ اس مسئلے پہ بلوچستا ن کے لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوامیں کرم اور پارا چنار کے مسائل بھی عوام میں حکومت کے خلاف نفرت کی چنگاری کو ہوا دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی مد میں بھی عوام پہ بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر مہنگائی کی شدت میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ غربت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ نوجوانوں کے لیے نوکریوں کی عدم دستیابی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا ختم ہونا ملک کو مزید مشکلات میں ڈال رہا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت کے خلاف عوامی غیظ وغضب مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
تحریک انصاف کی جانب سے ملک گیر احتجاج اور جلسے کرنے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ جس پر کئی بار حکومت کو سخت ردعمل دینا پڑا ہے۔ 24 نومبر 2024 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج کیا گیا جس میں کارکنان اور پولیس کے مابین شدید کشیدگی دیکھنے کو ملی، کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں درجنوں اہلکار اور کارکنان زخمی ہوئے۔ ان جھڑپوں میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد گرفتاریاں بھی دیکھنے کو ملیں۔ حکومت کی جانب سے تمام بڑے شہروں کی سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا جس سے عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس حوالے سے گروپ ایڈیٹر سٹی نیوز نیٹ ورک (چینل 24) نوید چوہدری نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستانی نوجوانوں میں جو غم و غصہ پایا جاتا ہے یہ تب تک کسی نتیجے پہ نہیں پہنچ سکتا جب تک یہ کسی تحریک کی شکل نہ اختیار کر لے، اس وقت ہمارے ہاں تمام سیاسی قائدین تقسیم ہیں۔ اس بات سے ہی اندازہ لگا لیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس قدر مقبول ہونے کے باوجود بھی جیل میں ہیں اور اب تک کچھ نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی جو سب سے بڑی نوجوانوں کی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے خان صاحب کی رہائی کے لئے کیا کر پائی ہے”۔
نوید چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ “یہ ضرور ہے کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن بنگلادیش جیسی صورتحال یہاں پیدا ہونا ممکن نہیں۔ بنگلادیش میں حالات کچھ اور نوعیت کے تھے وہاں صرف بنگالی قوم رہتی ہےجب کہ پاکستان میں مختلف اقوام ہیں۔ شیخ حسینہ واجد نے جبر کا نظام رکھا لیکن ترقی بھی دی، یہاں پاکستان میں زیادہ مسائل ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر موجودہ احتجاج اور عوامی رویے کو قابو نہ کیا گیا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔”
پاکستان میں عوام یکسو ہوکراپنے مطالبات کے حق میں نکلے،پہلے اسٹوڈنٹس باہر آئے بعد میں عام افراد بھی شامل ہوگئے،مگر پاکستان میں صورتحال مختلف ہے؟
گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ لاہور کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ڈاکٹر شفاعت علی ملک نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان اور بنگلہ دیشں کے سیاسی اور سماجی حالات میں کسی بھی مماثلت کی بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان میں بنگلہ دیش جسے حالات یا بغاوت کا کوئی خدشہ ہے۔ بنگلہ دیش کے برعکس پاکستان ایک ملٹی کلچر سوسائٹی ہے جس میں مختلف روایات کے حامل لوگ آباد ہیں، یہ روایات چاہے وہ مذہبی ، نسلی، سماجی یا سیاسی ہوں کبھی بھی پورے پاکستان کی سوچ یکساں نہیں ہونے دیں گی۔ جب تک ہر صوبے یا علاقے کے ترجیحات اور مفادات مختلف رہیں گے تب تک پاکستان میں بنگلہ دیش جیسے حالات یا بغاوت کا کوئی خدشہ نہیں”۔

ڈاکٹر شفاعت علی ملک نے مزید کہا کہ “بنگلا دیش میں رسومات، اقدار، سماج ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر اتنی زیادہ تقسیم نہیں جتنی پاکستان میں ہے۔ پاکستان میں موجود طبقاتی، سماجی ، نسلی ، سیاسی اور مذہبی تقسیم پاکستانیوں کو کبھی کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہیں ہونے دے گی۔ تاریخ میں پاکستان میں چلنے والی آج تک کی تمام تحریکیں چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیاسی ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی محرک تھا۔ کسی ادارے، گروہ یا پریشر گروپ کی حمایت کے بغیر ایسی کوئی تحریک چلائی گئی ہے نہ ہی کامیاب ہو ئی ہے۔ موجودہ تناظر میں پاکستان میں فی الحال ایسا کوئی محرک نظر نہیں آ رہا جو سب کو ایک پلیٹ فارم یا کسی ایک نقطہ پر اکٹھا کر سکے”۔
بلوچستان میں بڑھتے دہشتگردی کے واقعات کولےکر ڈاکٹر شفاعت علی ملک نے کہا کہ جہاں تک بلوچستان میں حالات کی خرابی کا تعلق ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کا استحصال ہے۔ آپ اس صوبے کا باقی صوبوں سے موازنہ کر کے دیکھ لیں ہر لحاظ سے یہ صوبہ پسماندہ ہے۔ کیا یہ لوگ پاکستانی شہری نہیں؟ کیا پاکستان کے وسائل کا ان پر حق نہیں؟ کیا ان کو ایک معزز شہری کا درجہ نہیں دیا جا سکتا؟ جب تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق میسر نہ ہوں تو ایسے میں لوگ کیا کریں گے؟ جب حکومت لوگوں کو وسائل نہیں دے گی تو پھر لوگ اپنے وسائل کے لئے غیروں کی طرف دیکھیں گے اور وہ غیر کوئی بھی ہو سکتا یہاں تک کہ وہ پاکستان کا دشمن بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں دہشت گردی کو ختم کرنے سے زیادہ ضروری دہشت گردی کی وجوہات کو تلاش کر کے انہیں ختم کرنا ہے”۔
یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب لاہور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر عرفان علی فانی نے ‘پاکستان میٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “حکومت کے خلاف عوامی غیظ وغضب پاکستان میں بنگلا دیش جیسی تحریک کو جنم نہیں دے سکتا، حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک میں ریاست کے معاشرتی ڈھانچے کا سٹرکچر بہت اہم کردار ادا کرتا ہے”۔
بنگلا دیشی عوام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ “پاکستان کی تشکیل و تحریک میں بنگالیوں کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ مسلم لیگ کا بننا بھی وہیں سے شروع ہوا اور بنیاد ڈھاکہ میں رکھی گئی۔ تحریکِ پاکستان میں بنگالیوں کا کردار نمایاں تھا، دراصل ان میں ابتدا سے ہی قدرتی مزاحمت پائی جاتی ہے اور جب وہ کوئی فیصلہ کرلیتےہیں تو پیچھے نہیں ہٹتے۔ 1971 میں بھی جب انھوں نے الگ ملک لینے کا فیصلہ کیا تو پھر لے کر ہی دم لیا۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً جب بھی وہاں کوئی مسئلہ درپیش آیا ہے تو زبردست تحریک دیکھنے کوملی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ابھی تک اس طرح کی کوئی بڑی تحریک دیکھنے کو نہیں ملی”۔
۔

پاکستان کی موجودہ صورتِحال پر بات کرتے ہوئے پروفیسر عرفان علی فانی نے کہا کہ “پاکستان کو اگر دو حصوں مشرقی جوکہ پنجاب اور سندھ پر مشتمل ہے اور مغربی جوکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان پر مشتمل ہے میں تقسیم کیا جائے توجو مشرقی حصہ ہے اس میں تاریخی طور پر آج تک کوئی بڑی مزاحمت نہیں ہوئی۔ لودھی، تغلق، مغل یہاں تک کہ جتنے بھی بیرونی حملہ آور آئے لوٹ مار کی یہاں سے کسی نے بھی مزاحمت نہ کی بلکہ ان لوگوں نے انھیں اپنا آقا تسلیم کرنے میں ذرا بھی دیر نہ کی۔ اس کے برعکس مغربی حصے میں ہمیشہ سے ہی جب بھی کوئی مشکل آئی زبردست مزاحمت ہوئی اور تحریکِ پاکستان میں مشرقی حصے کی نسبت مغربی حصے کے لوگوں نے نمایاں کردار ادا کیا”۔
بڑھتے ہوئے دہشتگردانہ واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “دہشتگردانہ واقعات کے پیچھے مزاحمتی کردارہے۔ لوگ ریاست سے ناراض ہیں کہ ان کے وسائل سے فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے مگر بدلے میں انھیں کچھ نہیں دیا جا رہا۔ گوادر پورٹ بنا دیا مگر گوادر کے لوگوں کے معیارِزندگی بہتر نہیں کیا گیا۔ اس کےعلاوہ سوئی گیس جو پورا ملک استعمال کر رہا ہے وہاں سے نکالی گئی ہے لیکن ان لوگوں کو استعمال کےلئے نہیں دی گئی۔ جب دنیا کے کسی کونے میں بھی ایسا ہو تو وہاں پر ایک زبردست مزاحمت دیکھنے کو ملتی ہے اور یہی مزاحمت قومیت پیداکرتی ہے۔ جب بھی کہیں پربسنے والے لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو پھر وہ لوگ نظریاتی طور پرمل جاتے ہیں اور مختلف قسم کی مزاحمتی موومنٹس دیکھنے کوملتی ہیں، بلوچ لبریشن آرمی موومنٹ اور پختون تحفظ موومنٹ جیسی تحریکیں اسی زیادتی کی پیدائش ہیں”۔
پاکستان میں عوامی تحریک کے جنم پر بات کرتے ہوئے پروفیسر عرفان علی فانی نے کہا کہ “پنجاب اور سندھ کی بات کی جائے تو نہ ہی فی لحال اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی ایسی صورتِحال نظرآتی ہے کہ یہاں کوئی تحریک جنم لے گی، البتہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مستقبل قریب میں بغاوت دیکھنے کومل سکتی ہے”۔ بغاوت کے پس منظر کو لے کر انھوں نے کہا کہ “دنیا بھر میں جتنی بھی بغاوتیں ہوئی ہیں انھوں نے مختلف مراحل طے کیے ہیں۔ پہلے بغاوت صرف زبان سے ہوتی ہے، پھرجسمانی سرگرمیوں میں دیکھائی دیتی ہے اور اس کے بعد پھر وہ عام گوریلا وار جیسی سرگرمیوں میں تبدیل ہو جاتی ہے جوکہ سول وار کی وجہ بنتی ہیں۔ اس وقت کہیں بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ مستقبل قریب میں پنجاب اور سندھ میں کوئی بغاوتی تحریک جنم لے گی ابھی تاریخ کو کچھ وقت لینا ہوگا”۔
دنیا بھر میں تحریک چلتی ہیں، کچھ کامیاب ہوتی ہیں تو کچھ ناکامی کا سامنا کرتی ہیں، ماہرین کی رائے اور موجودہ حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں فی الحال بنگلا دیش کے طرز کی کسی تحریک کے چلنے کے امکانات نا ہونے کے برابر ہیں، اگر معاشی اور سماجی انصاف کو بحال نہ کیا گیا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔