اپریل 5, 2025 1:04 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

دس ہزار مربع میٹر تک آگ: روس کے تیل کے ڈپو پر یوکرین کا بڑا حملہ

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

روس کے کراسنودار علاقے میں ایک تیل کے ڈپو میں جمعہ کے روز ایک دھماکہ ہوا، جب فائر فائٹرز اس ہفتے کے شروع میں یوکرین کے ڈرون حملے کے بعد بھڑکنے والی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

علاقائی حکام کے مطابق، آگ بجھانے کے دوران ایک جلتے ہوئے ٹینک میں دباؤ بڑھنے سے دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں تیل کے شعلے مزید پھیل گئے۔ اس دھماکے کے بعد آگ ایک اور ٹینک تک پھیل گئی، اور مجموعی طور پر آگ کا رقبہ 10,000 مربع میٹر تک پہنچ گیا، جو ابتدائی پیمانے سے دوگنا تھا۔

اس آگ کو بجھانے کے لیے 450 سے زائد فائر فائٹرز اور ایمرجنسی عملہ تعینات کیا گیا ہے، جبکہ اس حادثے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انٹرفیکس خبر رساں ایجنسی کے مطابق، بینزین سمیت مضر کیمیکلز کی زیادہ مقدار کا پتہ قریبی علاقوں میں لگایا گیا ہے، جس سے ماحولیاتی اور صحت کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

یہ ڈپو کاوکازسکایا گاؤں کے قریب واقع ہے اور قازقستان سے بحیرہ اسود کے ذریعے روسی تیل کی سپلائی کے لیے ایک اہم ریل ٹرمینل ہے۔ یوکرین کے ڈرون حملے نے روس کی توانائی کی صنعت پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں، جو ماسکو کی جنگی مہمات کے لیے مالی وسائل فراہم کرتی ہے۔

روس کی وزارت خارجہ نے یوکرین پر الزام لگایا ہے کہ اس حملے سے کیف نے مجوزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم، یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس نے حالیہ دنوں میں ہسپتالوں اور ریلوے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب کوئی باقاعدہ معاہدہ طے پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی جنگ بندی سے متعلق بیانات اور زمینی حقائق میں واضح تضاد ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک اہم حکمت عملی بن چکا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس