عدالت میں شوکت خانم کے وکلاء پیش ہوئے اور پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کے ذاتی اکاؤنٹ فریز کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو ان کے شناختی کارڈ نمبر بھیجے گئے تھے، جس کے بعد اسٹیٹ بینک نے علیمہ خان کے تمام اکاؤنٹس بند کر دیے تھے۔
پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ شوکت خانم اسپتال کے اکاؤنٹس کو فریز کرنے کی کوئی تحریری درخواست عدالت میں دائر نہیں ہوئی اور پراسیکیوشن کو ان اکاؤنٹس کو ڈی فریز کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم کے بینک اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا حکم جاری کیا۔ خیال رہے کہ علیمہ خان کے اکاؤنٹس 26 نومبر کے احتجاج کے کیس میں پہلے فریز کیے گئے تھے۔







