واقعے نے ایک بار پھر شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر اور میونسپل گورننس کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر کراچی انتظامیہ خصوصاً میئر کراچی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ہیش ٹیگ قبضہ میئر استعفیٰ دو جیسے سلوگن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ایکس (سابقہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ نیپا پر مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش مل گئی ہے، اس بچے کی شہادت پیپلزپارٹی کی حکمرانی کو انشااللہ ختم کرے گی، یہ آخری حکمرانی تھی اس بچے کی شہادت اور اس بچے کی ماں کی بددعا پیپلزپارٹی کا وہ انجام کرے گی کہ دنیا دیکھے گی۔
عائشہ غوری نامی صارفہ نے ایکس پر لکھا کہ کب تک معصوم زندگیاں گٹر میں گرتی رہیں گی اور اداروں کو آخر کب ہوش آئے گا؟
سردار فہد نامی ایک اور صارف نے شعرانہ انداز میں انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ لاوارث شہرِ کراچی ہے؟ کیوں موت یہاں پر ناچی ہے؟ کیا کوئی نہیں غمخوار یہاں؟ ارے کس کی ہے سرکار یہاں؟ کیوں حاکم بدکردار یہاں؟ ارے کس کی ہے سرکار یہاں؟
میر شاہد حسین نامی صارف نے کہا کہ یہ شہر کراچی کا کوئی پہلا واقعہ یا سانحہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی کئی بچے موت کا شکار بن چکے ہیں لیکن قبضہ میئر نہ کچھ کرتے ہیں اور نہ کچھ کرنے دیتے ہیں، بس اختیارات پر قابض ہیں۔
خیال رہے کہ حادثہ اس جگہ پیش آیا جہاں طویل عرصے سے مین ہول کا ںڈھکن غائب تھا، لیکن اس کی نشاندہی یا مرمت کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ واقعے نے شہر میں موجود کھلے مین ہولز، ٹوٹی سڑکوں اور گٹروں کے مسائل کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کو متعدد بار خراب سیوریج لائنوں اور کھلے مین ہولز کے بارے میں آگاہ کیا جا چکا تھا، تاہم مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث صورتحال جوں کی توں برقرار رہی۔ شہری حلقوں اور ماہرینِ شہریات کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انتظامی غفلت اور نگرانی کے فقدان کی وجہ سے پیش آیا۔
واقعے کے بعد میونسپل حکام حرکت میں آئے اور علاقے میں ہنگامی بنیادوں پر ڈھکن لگانے، نکاسی آب کی لائنوں کی مرمت اور سروے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ شہر بھر میں خطرناک مقامات کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔
ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔







