فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے نسل پرستی اور انتہائی دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف مظاہرے کیے۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب فرانسیسی حکومت امیگریشن پالیسیوں اور سرحدی کنٹرول کو سخت کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق، ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 91,000 افراد شریک ہوئے، جن میں سے 21,500 افراد پیرس میں جمع ہوئے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران دو افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ تین افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے۔
مارسیل میں 3,300 اور للی میں 2,600 افراد نے احتجاج کیا، جہاں کئی پلے کارڈز پر اسلامو فوبیا کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے فاشزم کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان صرف فرانس تک محدود نہیں بلکہ امریکا میں بھی یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔
ایل ایف آئی پارٹی کی قانون ساز اوریلی ٹرور نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت میرین لی پین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ اس کے خیالات حکومت میں بھی سرایت کر رہے ہیں۔ ایک طالبہ انز فری ہاوٹ نے وزیر داخلہ برونو ریٹیلیو کے اسلام اور الجزائر سے متعلق بیانات کو تشویشناک قرار دیا۔
یہ احتجاج نسلی امتیاز کے خاتمے کے عالمی دن کے ایک روز بعد ہوا، جس میں ہیومن رائٹس لیگ نے نسل پرستانہ کارروائیوں میں خطرناک اضافے پر تشویش ظاہر کی۔ ایس او ایس راسیسمی کے سربراہ ڈومینیک سوپو نے بھی مسلمانوں اور غیر ملکیوں کے خلاف امتیازی رویوں میں اضافے کی نشاندہی کی۔
ایل ایف آئی پارٹی نے مظاہروں کی حمایت میں فرانسیسی میڈیا شخصیت سیرل ہنونا کی تصویر شائع کی، جس پر شدید ردعمل آیا۔ ناقدین نے پارٹی پر سامی مخالف جذبات بھڑکانے کا الزام عائد کیا، جس کے بعد پارٹی نے تصویر کو “غلطی” تسلیم کرتے ہوئے واپس لے لیا۔