اپریل 5, 2025 1:08 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

بنگلہ دیش سے بڑھتے پاک-چین تعلقات سے انڈیا خوفزدہ

حسیب احمد
حسیب احمد

بنگلہ دیش کے چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں گزشتہ کچھ برسوں سے جو نیا موڑ آیا ہے وہ نہ صرف جنوبی ایشیا کی سیاست میں اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ انڈیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر اُبھرا ہے۔

تینوں ممالک کے درمیان روابط میں اعتماد اور تعاون کے امکانات دیکھے جا رہے ہیں جس کا اثر انڈین سیاسی اور سفارتی حکمت عملی پر پڑ سکتا ہے۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات ایک طویل اور پیچیدہ تاریخ رکھتے ہیں۔

1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش کے قیام نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات پیدا کر دیے تھے۔

اس کے بعد پاکستان نے طویل عرصے تک بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی تھی، تاہم 1974 میں اس نے بنگلہ دیش کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا۔

2024 میں شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں نئی قیادت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے قدم اٹھایا تھا۔

اس اقدام سے نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری آئی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی، اور فوجی تعلقات کی نئی بنیاد بھی رکھی گئی ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں اقتصادی تعاون، فوجی تربیت اور مشترکہ مشقوں کا آغاز ہو رہا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج بنگلہ دیشی فوج کو تربیت فراہم کریں گی اور 2025 میں دونوں افواج مشترکہ مشقوں میں حصہ لیں گی۔

یہ فوجی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم کرے گا جبکہ یہ قربت انڈیا کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر سلیم منصور خالد کا پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ “موجودہ حالات سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا نے بنگلہ دیش میں اپنے اثرات کو گہرائی تک پھیلایا ہوا ہے جیسا کہ سماجی، تعلیمی، اور فوجی شعبوں میں بھی انڈیا کے افراد کی موجودگی ہے۔”

انکا کہنا تھا کہ “بنگلہ دیش اپنی آزادی حاصل کرنے کے باوجود انڈیا کی براہ راست مداخلت کا شکار ہے۔ اسی لیے دنیا کو چاہیے کہ وہ بنگلہ دیش کا ساتھ دے، خاص طور پر چین، پاکستان، اور عرب ممالک کو بنگلہ دیش کا ساتھ دینا چاہیے جو کہ انکا فطری مطالبہ ہے۔”

دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو دنیا بھر کی نظریں چین اور بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات پر جمی ہوئی ہیں جس کا براہ راست اثر جنوبی ایشیا کی سیاسی حرکیات پر پڑنے والا ہے۔

حالیہ دنوں میں تینوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعلقات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جو انڈیا کے لیے بہت سے محاظ پر مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

اس سب کے چلتے بنگلہ دیش کی نئی خارجہ پالیسی نے انڈیا کے ساتھ ٹیلی کام کے معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے اور پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:“انڈین روپیہ ایشیا کی بہترین کرنسی بن گیا”

اسی طرح پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کے لیے ویزہ فیس بھی ختم کر دی ہے جبکہ چٹاگانگ اور کراچی کے مابین فاصلے سمٹ رہے ہیں۔

دوسری جانب چین نے بنگلہ دیش میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے متعدد منصوبوں کا آغاز کیا ہے، جن میں سڑکیں، پل، اور بندرگاہیں شامل ہیں۔

یہ اقدامات نہ صرف بنگلہ دیش کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے کے تحت انڈیا کے ہمسایہ ممالک میں بڑھتی ہوئی موجودگی کی علامت بھی ہیں۔ چین کا بنگلہ دیش میں اثرو رسوخ انڈیا کی سیکیورٹی اور اقتصادی مفادات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

منصور خالد کا کہنا تھا کہ “چین کی سرمایہ کاری یقینی طور پر انڈیا کی معاشی گرفت کو کسی حد تک کمزور کرے گی”۔

اس کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش میں قائد اعظم محمد علی جناح کی سالگرہ منائی گئی اور پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجے جس سے دونوں ممالک کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے جذبات کی عکاسی ہوتی ہے۔

یہ ایک ایسا منظر ہے جو انڈین سیاست دانوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ بنگلہ دیشی انتظامیہ کے سربراہ محمد یونس نے بھی پاکستان کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے 1971 کے جنگی جرائم کے مسئلے پر شیخ حسینہ واجد کی طرح سخت موقف اپنانے سے بھی گریز کیا ہے۔

منصور خالد نے مزید کہا کہ “جہاں تک پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان رقابت کا سوال ہے، یہ بات واضح ہے کہ انڈیا نے مشرقی پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا اور 54 سال بعد بھی وہ نہیں چاہے گا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے۔”

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فوجی تعاون میں اضافہ انڈیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نے انڈیا کی پریشانیوں کو بڑھا دیا ہے کیونکہ فوجی تربیت اور افسران کے تبادلے کے دوران نہ صرف خیالات کا اشتراک ہوتا ہے بلکہ غلط فہمیوں کا بھی ازالہ ممکن ہوتا ہے جو مستقبل میں تعلقات کی مضبوطی کا باعث بن سکتا ہے۔

اس سب کے علاوہ بنگلہ دیش نے اپنے نصاب میں تبدیلیاں کی ہیں اور اپنے قومی ہیروز کو نئے سرے سے متعارف کرایا، جس سے انڈیا کے اثرات بھی کم ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان، بنگلہ دیش اور چین کے بڑھتے تعلقات انڈیا کے لیے سٹریٹیجک چیلنج بن سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں چین کی موجودگی انڈیا کے مغربی اور مشرقی سرحدوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات انڈیا کی سلامتی اور اقتصادی مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں خاص طور پر خطے میں چین کا اثر بڑھتا ہے۔

بین لااقوامی امور کے ماہر منصور خالد نے پاکستان میٹرز سے مزید کہا کہ ” چین بہت عرصہ پہلے بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور یاد رہے کہ 2024 میں جب بنگلہ دیش میں سیاسی ہنگامے شروع ہوئے تھے تو اس وقت کی وزیراعظم حسینہ واجد چین کا دورے پر ہی تھیں لیکن ہنگامی صورتحال کے باعث انہیں یہ دورہ منسوخ کرنا پڑا تھا، اس وقت حسینہ واجد کی کوشش تھی کہ چین کی سرمایہ کاری کے ذریعے انڈیا کے اثرات کے مقابلے میں کچھ توازن قائم کیا جائے، کیونکہ انڈیا اس وقت واحد ملک ہے جس کا بنگلہ دیش میں گہرا اثر و رسوخ ہے۔”

آخر میں انکا کہنا تھا کہ “اب کچھ ہی دنوں میں بنگلہ دیش کی معروف شخصیت ڈاکٹر محمد یونس چین کا دورہ کریں گے اور اس دورے کے دوران جو معاہدے یا مفاہمتیں طے پائیں گی وہ وقت ہی بتائے گا۔ تاہم، یہ بات انڈیا اور امریکا دونوں کے لیے ناپسندیدہ ہوگی کہ بنگلہ دیش اپنے معاشی تعلقات کو چین کے ساتھ مزید مستحکم کرے۔”

انڈیا کو چین اور بنگلہ دیش کی بڑھتی ہوئی قربت سے اپنی سمندری سلامتی کو خطرہ لاحق ہے اور اسے جنوبی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے جج کے وفاقی کارکن کی بحالی کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

حسیب احمد

حسیب احمد

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس