انڈیا میں بدھ مت کے پیروکاروں نے مہابودھی مندر پر ہندوؤں کے کنٹرول کے خلاف شدید احتجاج شروع کر دیا، جس کا مقصد مندر کا مکمل اختیار بدھ کمیونٹی کا حاصل کرنا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مندر میں ادا کی جانے والی ہندو رسومات بدھ مت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ مندر کا مکمل اختیار بدھ کمیونٹی کو دیا جائے۔
مظاہرین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہندو اکثریت کی حکومت بدھ مت کے حقوق کو نظرانداز کر رہی ہے۔
پولیس نے بھوک ہڑتال کرنے والے بدھ راہبوں کو زبردستی ہٹایا، جس کے بعد یہ احتجاج شدت اختیار کرگیا۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کا شام کے دو فوجی اڈوں پر حملہ، ایرانی افواج اور حزب اللہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
واضح رہے کہ مہابودھی مندر کو 1949 کے بودھ گیا ٹیمپل ایکٹ کے تحت چلایا جاتا ہے، جس کے مطابق 8 رکنی کمیٹی میں ہندو اور بدھ نمائندوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے۔ بدھ رہنما اس قانون کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مندر کا مکمل انتظامی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سولہویں صدی میں ہندوؤں نے مندر پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا، ہندو خانقاہ بودھ گیا ماتھ تاریخی تحفظ کی کوششوں کو اپنی ذمہ داری قرار دیتی ہے۔
خیال رہے کہ انڈین حکام اور سپریم کورٹ میں معاملہ پہنچنے کے باوجود تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔ ہندو راہبوں نے ان مظاہروں کو سیاسی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، تاہم بدھ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی یکجہتی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ انڈیا میں اقلیتی برادریوں کو درپیش مسائل میں بدھ مت کے پیروکار بھی شامل ہیں، جو ہندو اکثریت کے ظلم کا شکار ہیں۔