ملاقات کے دوران محسن نقوی نے واضح کیا کہ شہزاد اکبر اور عادل راجہ پاکستان میں مختلف الزامات کے تحت مطلوب ہیں اور ان کی فوری حوالگی پاکستان کے قانونی تقاضوں کے مطابق ضروری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے برطانوی ہائی کمشنر کو دونوں افراد کے خلاف دستیاب ٹھوس شواہد بھی پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آزادی اظہارِ رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے، تاہم فیک نیوز اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

محسن نقوی نے کہا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان اور اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کسی بھی ملک میں ناقابلِ قبول عمل سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان مخالف مواد پھیلانے والوں کی حوالگی کے لیے برطانوی تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے وزارتِ خارجہ کے ذریعے بھی دونوں افراد کی حوالگی کی کارروائی باقاعدہ طور پر شروع کر دی ہے۔