پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے بلوچستان میں ہونے والے احتجاج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہرین پرامن نہیں بلکہ دہشتگردوں کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے بیان کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ یہ بیان انتہاپسندوں کو مزید طاقت دینے کے مترادف ہے۔
شفقت علی خان نے اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ بلوچستان کے احتجاجی مظاہرین دہشتگردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور انہوں نے کوئٹہ کے ایک ہسپتال پر حملہ کرکے دہشتگردوں کی لاشیں قبضے میں لے لی تھیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کو حقائق سے لاعلمی قرار دیا اور کہا کہ عالمی ادارے کو متشدد گروہوں کی حمایت کرنے کے بجائے آزاد ریاستوں کا ساتھ دینا چاہیے۔
امریکا کی جانب سے پاکستان پر لگائی جانے والی پابندیوں پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے انہیں جانبدارانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں پاکستان پر پابندیوں کے حوالے سے پیش کیا گیا بل کسی ایک فرد کا ذاتی اقدام ہے، نہ کہ امریکی حکومت کی پالیسی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات باہمی احترام اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول پر قائم ہیں۔
مزید پڑھیں: ‘اسرائیل نے غزہ میں طاقت استعمال کی تو قیدی تابوت میں واپس آئیں گے’ حماس کی وارننگ
افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ہدایت پر پاکستان کے خصوصی نمائندہ محمد صادق نے افغانستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے افغان حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے میں دونوں ممالک نے سیکیورٹی، تجارت اور عوامی روابط کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈلائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
انڈیا کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر بھارت کی دہشتگردانہ کارروائیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے انڈین حکومت کے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے سے متعلق ثبوت اقوام متحدہ میں جمع کروا دیے ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں کی بھی مذمت کی۔
اسرائیل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے واضح کیا کہ کوئی بھی پاکستانی اپنے پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر نہیں کر سکتا، البتہ اگر کوئی دوسرا ملک خود سفر کا بندوبست کرے تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔
روس اور یوکرین جنگ پر پاکستان کے مؤقف کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان محدود جنگ بندی کے معاہدے کو خوش آمدید کہتا ہے۔ شام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں دیرپا امن صرف سیکیورٹی فورسز کو غیر مسلح کرنے سے نہیں آئے گا بلکہ اس کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔