پاکستان نے کمرشل کمپنیوں پر لگائی گئی امریکی پابندیوں پر سخت ردِ عمل دیتے ہُوئے انہیں یکطرفہ اور بلاجواز قرار دیا، ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر لگائی گئی تمام پابندیاں یکطرفہ ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے عائد کی گئی ہیں۔
عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق امریکی محکمہ تجارت نے پاکستان، چین، متحدہ عرب امارات سمیت آٹھ ممالک کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس فہرست میں 19 پاکستانی، 42 چینی اور 4 متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ ایران، فرانس، افریقہ، سینیگال اور برطانیہ کی کچھ کمپنیاں بھی اس پابندی کی زد میں آئی ہیں۔
امریکہ نے ان کمپنیوں کو اپنی “اینٹیٹی لسٹ” میں شامل کیا ہے، جو ایسے اداروں اور کمپنیوں پر مشتمل ہوتی ہے جنہیں امریکی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنیاں امریکہ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی کام کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ’بلوچ مظاہرین پرامن نہیں‘ پاکستان نے اقوام متحدہ کے بلوچستان سے متعلق بیان کو ‘افسوس ناک’ قرار دے دیا
پاکستان نے ان پابندیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں یکطرفہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کی کمرشل کمپنیوں پر امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں یکطرفہ ہیں اور بغیر کسی ثبوت کے عائد کی گئی ہیں۔
یہ پہلی بار نہیں کہ امریکہ نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر پابندیاں عائد کی ہوں۔ اپریل 2024 میں بھی امریکہ نے چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی پر پاکستان کے میزائل پروگرام میں معاونت کا الزام لگا کر پابندیاں عائد کی تھیں۔
امریکی اینٹیٹی لسٹ میں شامل پاکستانی کمپنیوں میں الائیڈ بزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ، اریسٹن ٹریڈ لنکس، بریٹلائٹ انجینئرنگ کمپنی، گلوبل ٹریڈرز، انڈنٹیک انٹرنیشنل، انٹرا لنک انکارپوریٹڈ، لنکرز آٹومیش پرائیویٹ لمیٹڈ اور این اے انٹرپرائزز شامل ہیں۔