اپریل 5, 2025 12:04 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

شادیوں میں دولت کی نمائش:ضرورت یا مجبوری

اظہر تھراج
اظہر تھراج
بارات میں نوٹوں کی برسات ایک روایت بن چکی ہے،فوٹو:فیس بک

’لوگ کیا کہیں گے‘یہ وہ جملہ ہے جس کے لیے پاکستان میں شادیوں پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے،مفت کا مال سمجھ کرہوا میں اڑایا جاتا ہے اور پھر کم حیثیت لوگ کئی سال تک قرضوں کی دلدل میں پھنسے رہتےہیں۔

گزشتہ دنوں یوٹیوبر رجب بٹ کی شادی میں ملک کے نامورسوشل میڈیاسٹارزکی جانب سے پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا۔ رائفل سے لےکرشیرکےبچے تک لوگوں نے بے شمار تحائف دیے، جس کی وجہ سے دولہے کو پولیس اسٹیشن کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایک طرف پیسہ اڑانے جیسی فضول رسم  پروان چڑھ رہی ہے تو دوسری طرف جہیز میں طرح طرح کی چیزیں مانگنا بھی ایک الگ مسئلہ بن گیا ہے،پنجاب حکومت نے شادیوں کو سادہ کرنے کے بجائے سرکارکی طرف سے’دھی رانی پروگرام‘کے تحت ایک لاکھ روپے سلامی اوردو لاکھ کے تحائف دینے کا اعلان کیا گیا، آخر شادیوں پر فضول خرچی کرنے کی وجہ کیا ہے؟

ہرسال ستمبر کے آتے ہی شادیوں کا موسم شروع ہوجاتا ہے اوردسمبر تک جاری رہتا ہے۔ اس دورانیے میں سڑکوں پر باراتیوں کی لمبی لمبی گاڑیاں نظرآتی ہیں، بے دریغ خرچ ہوتا ہوا پیسہ نظر آئے گا۔

کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ جہاں ایک طرف ملک میں لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے  زندگی گزار رہے ہوں  وہیں دوسری طرف فضول خرچ ہوتا ہوا پیسہ نظر آرہا ہو؟ ایک عام فرد سوچنے پر مجبورہوجاتا ہے کہ ’کیسے جاہل لوگ ہیں فضول میں پیسے کا ضیاع کر رہے ہیں‘ یا پھر آپ کہیں گےکہ یہ پیسے کی نمائش کی جارہی ہے، مگر ہم سب انہی رسومات میں جکڑے ہوئے ہیں۔

نومبر کو ’شادی ماہ‘ کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ شادیاں نومبر میں ہوتی ہیں، شادیوں میں سب سے زیادہ خرچہ متوسط طبقے کی جانب سے دیکھنے کو ملتا ہے۔

 خاندان والوں سے شراکت داری ہونے کے نام پر قرضہ لے کر شادی کرنے کا رواج عام ہوچکا ہے،دیہات میں عزت کا کہہ کر پانی کی طرح پیسہ بہایا جاتا ہے۔  لیکن شہروں نے اب دیہات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ شادی ہالز کے بننے کے  بعد  شہر کے سارے شادی ہال ہر وقت بُک ہی نظر آتے ہیں۔ فضول خر چی کا یہ عالم ہے کہ چھوٹے ہالز میں شادی کی بجائے صرف جنم دن کے کیک کاٹے جارہے ہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں جو امیر ہیں بلکہ یہ وہ ہیں جو امیر دکھنا چاہتے ہیں۔

 لوگوں کی شاد یوں پر بے تحاشا پیسہ خرچ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے آبا ؤ اجداد نے اس طرح کی شادیاں کی تھیں اور اگر وہ فضول خرچی نہیں کریں گے تو لوگ کیا کہیں گے۔اشتہارات اور ڈراموں نے فضول خرچی کو ہوا دی ہے، بلاوجہ ایسی چیزیں دکھاتے ہیں جن سےلگتا ہےکہ ان کے بغیر شاید شادی ادھوری ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے ’دھی رانی پروگرام‘شروع کیا ہے،فوٹو:پی ایم ایل این

 شادیوں میں یوں فضول خرچی کرنے کی وجہ دکھاوا ہے یا احساس کمتری؟ یہ ایک نفسیاتی سوال ہے، ماہرین اپنی اپنی رائے رکھتے ہیں، ماہرین کے مطابق دونوں جواب ہی اپنی جگہ پر صحیح ہیں، اگر غور کیا جائےتو پتہ چلتا ہے کہ یہ احسا س کمتری ہے جس کے پیشِ نظر فضول خرچی نے جنم لیا ہے۔

اسائنمنٹ ایڈیٹر 24 نیوز اینڈ بلاگر  ثنا نقوی کا پاکستان میٹرز خصوصی بات چیت کرتے ہوئے  کہنا تھا کہ فضول خرچی کی ایک بڑی وجہ معاشرتی رسومات کی قید ہے ۔ اس کے علاوہ دکھاوے ، رشتےداروں میں احساس برتری اورذاتی تسکین کےلئے بھی  شادیوں پر فضول خرچی کی جاتی ہے ۔

بنیادی وجہ یہ ہے کہ شادیوں پر بے بہا پیسہ خرچ کرنے والوں کو لگتا ہے کہ  پیسہ خرچ نہ کرنے سے  انہیں لوگ اپنے سے کم تر سمجھیں گے،یا عزت نہیں کی جائے گی۔ ایسے لوگوں کو لگتا ہے کہ عزت پیسے سے ملتی ہے اور وہ عزت خریدنے نکل پڑتے ہیں مگر وہ شاید نہیں جانتے کہ عزت خریدی نہیں جاتی بلکہ کمانی پڑتی ہے۔

 ماہرینِ نفسیات کے مطابق، وہ احسا س کمتری کا شکار ہوتے ہیں، اپنی دھاک بٹھانے کی غرض سے فضول خرچی کرتے ہیں اور  بعد میں پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں،۔ یہ ز یادہ تر سفید پوش لوگ ہوتے ہیں ۔ عزت اوراحسا س کمتری میں آکر خود کو مصیبتوں میں ڈال دیتے ہیں۔

ثنا نقوی نے کہا کہ قریبی رشتے داروں اور  دوست احباب سے اپنا موازنہ کرنے کی وجہ سے سفید پوش طبقہ احساسِ کمتری کا شکار ہوچکا ہے۔ شادیوں پر کی جانے والی فضول خرچیوں کو روکنے کےلئے ضروری ہے کہ شادی کی رسومات کو  سادگی اور شرعی طریقے سے کیا جائے۔

 اس کے علاوہ شادی هالز کے اوقات کار اور ون ڈش کی پابندی میں انتظامیہ کی جانب سے سختی فضول خرچی کو روکنے میں صحیح معنوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

 ہر پڑھا لکھا انسان اس بات کو بخوبی جانتا ہے مگرجب وقت آتا ہے تو وہ بھی انہی فضول رسومات کا شکار ہو جاتا ہے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟ہم سب کو اس پر سوچنے کی ضرورت ہے، آخر کونسی وجوہات ہیں جنہوں نے ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے اورہم لوگ ایک مصنوعی زندگی جینے پر مجبور ہوکررہ گئے ہیں۔ 

اظہر تھراج

اظہر تھراج

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس