نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں اور پاکستان مخالف بیانات کی کبھی مذمت نہیں کی گئی۔ عمران خان ہمیشہ سیاستدانوں سے مذاکرات سے انکار کرتے رہے اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت پر اصرار کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بھارتی میڈیا کو کبھی ایسے انٹرویو نہیں دیے جن میں پاکستان کے وجود یا سالمیت کو چیلنج کیا گیا ہو۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کبھی 9 مئی جیسی کارروائیاں نہیں کیں، جب کہ پیپلز پارٹی نے اپنے لیڈر کے پھانسی پانے اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باوجود ریاست مخالف راستہ اختیار نہیں کیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو تین بار اقتدار سے ہٹایا گیا، انہیں جیل بھیجا گیا، لیکن انہوں نے کبھی ’ریڈ لائن‘ عبور نہیں کی۔
عمران خان کےحوالےسےنیوزکانفرنس میں فطری ردعمل دیا گیا،اگروہ دہشتگردی کےخلاف جنگ نہیں لڑسکتے،شہیدوں کے جنازےنہیں پڑھ سکتے،بھارتی میڈیاکوپاکستان کیخلاف انٹرویودیتےہیں توپھریہی زبان سنیں گےجوآج سنی ہے۔عمران خان کی بہن کی بھارتی میڈیا سے گفتگوفیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔خواجہ آصف pic.twitter.com/i5xUWD4TJn
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) December 5, 2025
ڈی جی آئی ایس پی آر کی آج کی پریس کانفرنس پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فوج کا ردعمل فطری ہے کیونکہ چند سالوں سے اداروں کے خلاف زہر پھیلایا جا رہا ہے۔ 9 مئی کے تمام کیسز سول عدالتوں میں مکمل ہو چکے ہیں، فوج کے پاس کوئی کیس نہیں بچا۔
خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سے متعلق سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کرے گی، فوج کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی نے آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔
چئیرمین تحریک انصاف بیرسٹرگوہرعلی خان
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) December 5, 2025
مین ہمیشہ سےامیدکرتاآیاہوں کہ تناؤکم اورتعلقات میں بہتری آئے، آج آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی ہے، ملک کادفاع اہم ہے،پی ٹی آئی کابیانیہ کبھی ملک دشمن نہ ہے،نہ ہوگا، ریاستی ادارےاورسیاسی لوگ ایک دوسرےکوذہنی مریض کہے یاخطرہ…
’ایکس‘ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ کبھی ملک دشمن نہیں تھا، نہ ہوگا۔ ریاستی ادارے اور سیاستدان اگر ایک دوسرے کو ’ذہنی مریض‘ یا ’خطرہ‘ سمجھیں تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ یہ امید رکھتے رہے کہ تناؤ کم ہوگا اور تعلقات میں بہتری آئے گی، مگر آج کے بیانات نے مایوسی پیدا کی ہے۔







