نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں اور پاکستان مخالف بیانات کی کبھی مذمت نہیں کی گئی۔ عمران خان ہمیشہ سیاستدانوں سے مذاکرات سے انکار کرتے رہے اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت پر اصرار کرتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بھارتی میڈیا کو کبھی ایسے انٹرویو نہیں دیے جن میں پاکستان کے وجود یا سالمیت کو چیلنج کیا گیا ہو۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے کبھی 9 مئی جیسی کارروائیاں نہیں کیں، جب کہ پیپلز پارٹی نے اپنے لیڈر کے پھانسی پانے اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باوجود ریاست مخالف راستہ اختیار نہیں کیا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو تین بار اقتدار سے ہٹایا گیا، انہیں جیل بھیجا گیا، لیکن انہوں نے کبھی ’ریڈ لائن‘ عبور نہیں کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی آج کی پریس کانفرنس پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فوج کا ردعمل فطری ہے کیونکہ چند سالوں سے اداروں کے خلاف زہر پھیلایا جا رہا ہے۔ 9 مئی کے تمام کیسز سول عدالتوں میں مکمل ہو چکے ہیں، فوج کے پاس کوئی کیس نہیں بچا۔

خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سے متعلق سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کرے گی، فوج کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی نے آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔

’ایکس‘ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ کبھی ملک دشمن نہیں تھا، نہ ہوگا۔ ریاستی ادارے اور سیاستدان اگر ایک دوسرے کو ’ذہنی مریض‘ یا ’خطرہ‘ سمجھیں تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ یہ امید رکھتے رہے کہ تناؤ کم ہوگا اور تعلقات میں بہتری آئے گی، مگر آج کے بیانات نے مایوسی پیدا کی ہے۔