سوڈانی فوج نے دارالحکومت خرطوم کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا، روس چین یو اے ای شکست کھا گئے۔
سوڈانی فوج کے سربراہ نےاعلان کیا ہے کہ اس نے دارالحکومت خرطوم پر مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے، جو ایک ہفتے سے جاری شدید لڑائی کا اختتام ہوا ہے۔ فوج نے صدارتی محل، ائیر پورٹ اور دیگر اہم مقامات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے، جو ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے نتیجے میں ممکن ہوا۔
سوڈان کی صورتحال اس وقت ایک پراکسی وار بنی ہوئی ہے۔ میں اس کو پراکسی وار ہی کہوں گا کیونکہ یہاں کئی عالمی طاقتیں زور آزمائی کرر ہی ہیں۔ سوڈان میں ایسا کیا ہے، جس میں عالمی طاقتیں زور آزمائی کر رہی ہیں۔ اس کی صورتحال کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔
سوڈانی فوج کی حمایت کا سب سے بڑا اتحادی مصر ہے، متحدہ عرب امارات پہلے سوڈانی افواج کی حمایت کرتی تھی لیکن بعد میں انٹرنسٹ کی بنیاد پر اس نے آر ایس ایف کی حمایت کی۔

تیسرے نمبر پر موجود سعودی عرب بھی سوڈانی افواج کے حق میں بہت زیادہ متحرک ہے، وہ اس کو مالی و سفارتی امداد فراہم کرتا ہے۔ امریکہ و مغرب بھی سوڈانی افواج کی حمایت کرتے ہیں۔
ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو روس کے واگنز گروپ کی جانب سے اسلحہ و امداد دی جارہی ہے، متحدہ عرب امارات پہلے ان کے حق میں نہیں تھا، بعد میں ہر قسمی تعاون فراہم کرنا شروع کردیا۔
چین سوفٹ ڈپلومیسی کی بنیاد پرغیر جانبدار ہے، لیکن ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)کے کنٹرول دارفور میں معدنیات کی کان کنی میں دلچسپی رکھتا ہے، اسی وجہ سے چین کا جھکاؤ RSF کی طرف ہے، چین ویسے اپنا مفاد دیکھتا ہے، اس کو اس چیز سے فرق نہیں پڑتا کہ امریکہ و یورپ کس گروپ کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔
افغانستان کے طالبان کے ساتھ سب سے پہلے معاملات چین نے طے کرنا شروع کیے تھے۔ اپریل 2023 سے جاری جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 12 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق 3.5 ملین سے زیادہ لوگ دارالحکومت سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کئی علاقے مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔ لاکھوں افراد جو خرطوم چھوڑنے سے قاصر یا انکار کر چکے ہیں، انہیں شدید بھوک، حقوق کی پامالی اور دونوں جانب سے اندھا دھند گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سوڈان میں خانہ جنگی کا آغاز 15 اپریل 2023 کو ہوا، سوڈانی فوج (SAF) اور نیم ریپڈ سپورٹ فورسز(RSF) کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہوئیں، سوڈانی فوج کی قیادت جنرل عبدالفتاح البرہان کر رہے ہیں، جب کہ RSF کی قیادت محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کر رہا ہے، دونوں 18دسمبر 2018 کو شروع ہونے والے احتجاجی مظاہر میں ایک تھے۔
11 اپریل 2019 کو عمر البشیر کی حکومت کے ختم ہونے کے بعد اقتدار میں آئے، لیکن پھر آپس میں لڑنا شروع ہوگئے، پھر انھوں نے 2023 میں ایک معاہدہ کیا کہ RSF کو سوڈانی فوج میں شامل ہو جائے گی، لیکن آپسی اختلاف نے ان کو پھر ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا۔